30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح اصابہ میں ہے کماسیأتی(جیسا کہ آگے آئے گا۔ت)علامہ شہاب نسیم الریاض میں فرماتے ہیں:
|
من الغریب مانقلہ بعضھم ان اﷲ تعالٰی احیاہ لہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فامن بہ کابویہ واظنہ من افتراء الشیعۃ[1]۔ |
غرائب سے ہے یہ جو بعض نے نقل کیا کہ اﷲ تعالٰی نے والدین رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی طرح ابو طالب کو بھی نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے لیے زندہ کیا کہ بعد مرگ جی کر مشرف باسلام ہوئے میرے گمان میں یہ رافضیوں کی گھڑت ہے۔ |
اقول:وضّاع کذاب رافضیوں ہی میں منح صر نہیں مگر یہ اُن کے مسلك کے موافق ہے لہذا اس کی وضع کا گمانِ انہیں کی طرف جاتا ہے پھر بھی بے تحقیق جزم کی کیا صورت ممکن کہ کسی اور نے وضع کی ہو،اس بنا پر لفظ ظن فرمایا،ورنہ اس کے موضوع و مفتری ہونے میں تو شُبہ نہیں،کما لایخفٰی(جیسا کہ پوشیدہ نہیں۔ت)علامہ صبان محمد بن علی مصری کتاب اسعاف الراغبین میں فرماتے ہیں:
|
اما اعمامہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاثنا عشرۃ حمزۃ العباس وھما المسلمان وابوطالب والصحیح انہ مات کافرا[2]۔ |
حضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے بارہ چچا تھے،حمزہ و عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما اور یہی دو مشرف با سلام ہوئے اور ابو طالب اور صحیح یہی ہے کہ یہ کافر مرے۔ |
فصل پنجم:
شرح مقاصد و شرح تحریر پھر ردالمحتار حاشیہ درمختار باب المرتدین میں ہے:
|
المصر علی عدم الاقرار مع المطالبۃ بہ کافر وفاقا لکون ذلك من امارات عدم التصدیق ولہذا اطبقوا |
جس سے اقرارِ اسلام کا مطالبہ کیا جائے اور وہ اقرار نہ کرنے پر اصرار رکھے بالاتفاق کافر ہے کہ یہ دل میں تصدیق نہ ہونے کی علامت ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع