30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امام اجل محمد بن اسمعیل بخاری نے جامع صحیح کتاب الجنائز میں ایك باب وضع فرمایا:"باب اذاقال المشرك عندالموت لا الٰہ الاّ اﷲ"[1]۔یعنی باب اس کے بیان کا کہ مشرك مرتے وقت لا الٰہ الا اﷲ کہے تو کیا حکم ہے اور اس میں حدیث دوم روایت فرمائی۔اُسی کی کتاب الادب میں لکھا "باب کنیۃ المشرک"[2]۔اس میں حدیث چہارم روایت اور حدیث مذکور:
|
سمعت النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یقول وھو علی المنبر ان بنی ھاشم بن المغیرۃ استاذنونی ان ینکحو ا ابنتھم علی بن ابی طالب[3]۔ |
میں نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سُنا جب کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے کہ بنی ہاشم بن مغیرہ نے مجھ سے اجازت طلب کی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی بن ابی طالب کے ساتھ کردیں۔(ت) |
ذکر کی______ امام قسطلانی نے تطبیقِ حدیث و ترجمہ میں لکھا "فذکرابا طالب المشرك بکنیۃ" نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ابو طالب مشرك کو کنیت سے یاد فرمایا۔ پھر لکھا:
|
قد جوزواذکر الکافر بکنیتہ اذا کان لایعرف الا بہا کما فی ابی طالب اوکان علٰی سبیل التالف رجاء اسلامھم او تحصیل منفعۃ منھم لا علی سبیل التکریم فانا ما مورون بالاغلاظ علیھم[4]۔ |
علماء نے کافر کو کنیت سے ذکر کرنا ناجائز رکھا جب کہ وہ اور نام سے نہ پہچانا جائے جیسے ابو طالب یا بامیدِ اسلام تالیف مقصود یا کام نکالنا ہو مگر بطورِ تکریم جائز نہیں کہ ہمیں ان پر سختی کرنے کا حکم ہے۔ |
عمدۃ القاری میں ہے:
|
قال ابن بطال فیہ جواز تکنیۃ المشرک[5]۔ |
امام ابن بطال نے فرمایا:اس حدیث سے مشرك کو بلفظ کنیت یاد کرنے کا جواز معلوم ہوا۔ |
اُسی میں ہے:
[1] صحیح البخاری کتاب الجنائز باب اذاقال المشرك عندالموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/ ۱۸۱
[2] صحیح البخاری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۹۱۶
[3] صحیح البخاری کتاب النکاح باب ذب الرجل عن ابنتہ فی الغیرہ الخ قدیمی کتب خانہ کراچی۲ /۷۸۷
[4] ارشاد الساری کتاب الادب باب کنیۃ المشرك تحت الحدیث ۶۲۰۸ بیروت ۲۳ /۲۰۷ و ۲۱۰
[5] عمدۃ القاری شرح البخاری کتاب الادب تحت الحدیث ۶۲۰۸ دارالکتب العلمیہ بیروت ۲۲ /۳۳۹
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع