30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے معنی لوگوں کے ہذیان کیا قابلِ التفات۔
شعر اول کے مصرعہ اخیر میں آں دم نبود چاہیے ورنہ قافیہ غلط ہے بہرحال اس کا مطلب صحیح و صاف ہے وجود ارواحِ قبل اجسام کی طرف اشارہ ہے۔
شعر دوم صریح کفر ہے۔
شعر سوم میں دراصل تین سو تیرہ برس کا لفظ ہے فرحان ہمارے بریلی کے شاعر تھے ان کی زندگی میں ان کی یہ غزل چھپی تھی فقیر نے جبھی دیکھی تھی اس میں تین سو تیرہ کا لفظ تھا اس میں شاعر نے یہ مہمل و بے ہودہ و لغو مطلب رکھا ہے کہ لفظ محمد کے عدد ۹۲ ہیں اور لفظ خدا کے عدد ۶۰۵ ظاہر ہے کہ ۶۰۵ سے ۹۲ بقدر ۵۱۳ کے مقدم ہے۔بے ہودہ معنی اور بے معنی بات واستغفراﷲ العظیم یہ وہ ہے جو شاعر صاحب نے سمجھا تھا اور اس کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ محمد سے مراد مرتبہ رسالت حضور سید المرسلین صلی الله تعالٰی علیہ وعلیہم اجمعین ہو جس کا سر صرف ر ہے کہ رویت و روایت و ردیت درائے سب کا مبدا ہے اور انہار رسالت کی یہی منابع ہیں۔اس کے عدد ۲۰۰ ہیں اور رسول ۳۱۳ کہ حقیقۃً سب ظلال رسالت محمدیہ علیہ صاحبہا افضل الصلوۃ والتحیۃ ہیں مجموع ۵۱۳ ہوا۔رسل کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی سیرمن اﷲ الی الخلق ہے اور امت کی سیر من الرسل الی اﷲ جب تك رسولوں پر ایمان نہ لائے اﷲ عزوجل پر ایمان نہیں مل سکتا۔پھر اس تك رسائی تو بے وساطت رسل محال ہے اور تصدیق سب رسولوں کی جزء ایمان ہے۔" لَا نُفَرِّقُ بَیۡنَ اَحَدٍ مِّنۡ رُّسُلِہٖ۟"[1] (ہم اس کے کسی رسول پر ایمان لانے میں فرق نہیں کرتے)برس کو عربی میں حول کہتے ہیں کہ تحویل سے مشعر ہے رسولوں کی بدلیاں بھی تحویل تھیں اور برس بمعنی بارش ہے ہر رسول کی رسالت بارش رحمت ہے یعنی محمد صلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے آدم سے خاتم تك رائے رسالت میں یہ تین سو تیرہ تطور فرمائے تین سو تیرہ ابر رحمت برسائے جب تك ان سب کی تصدیق سے بہرہ ور ہو خدا تك رسائی ناممکن ہے واﷲ تعالٰی اعلم۔
_________________
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع