30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مگر تکثیر فوائد و تسکین زائد کے لیے بعض اور بھی کہ سردست پیش نظر ہیں اضافہ کیجئےکہ زیادت خیر زیادت خیر ہے۔وباﷲ التوفیق۔
امام الائمہ،مالك الازمّہ،کاشف الغمہ،سراج الائمہ،سیدنا امام اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ فقہ اکبرمیں فرماتےہیں:
|
ابوطالب عمہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم مات کافرا [1]۔ |
نبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے چچا ابو طالب کی موت کُفر پر ہوئی۔ والعیاذباﷲ۔ |
امام برہان الدین علی بن ابی بکر فرغانی ہدایہ میں فرماتے ہیں:
|
اذا مات الکافر ولہ ولی مسلم فانہ یغسلہ ویکفنہ و یدفنہ بذلك امر علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ فی حق ابیہ ابی طالب لکن یغسل غسل الثوب النجس ویلف فی خرقۃ و یحفر حفیرۃ من غیر مراعاۃ سنۃ التکفین و اللحد ولایوضع فیہ بل یلقی[2]۔ |
جب کافر مرجائے اور اس کا کوئی مسلمان رشتہ دار موجود ہو تو وہ اس کو غسل دے،کفن پہنائے اور دفن کرے،حضرت علی مرتضٰی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو ان کے باپ ابو طالب کے بارے میں ایسا ہی حکم دیا گیا۔لیکن اس کو غسل ایسے دیا جائے جیسے پلیڈ کپڑے کو دھویا جاتا ہے اور کسی کپڑے میں لپیٹ دیا جائے اور اس کے لیے گڑھا کھودا جائے،کفن پہنانے اور لحد بنانے کی سنت ملحوظ نہ رکھی جائے اور نہ ہی اس کو گڑھے میں رکھا جائے بلکہ پھینکا جائے۔(ت) |
امام ابوالبرکات عبداﷲ نسفی کافی شرح وافی میں فرماتے ہیں:
|
مات کافر یغسلہ ولیہ المسلم ویکفنہ ویدفنہ، و الاصل فیہ انہ لما مات ابوطالب اتی علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وقال انّ عمّك الشیخ الضال |
کافر مرجائے تو اس کا مسلمان رشتہ دار اس کو غسل دے،کفن پہنائے اور دفن کرے،اس میں اصل یہ ہے کہ جب ابوطالب مرگئے تو حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا کہ آپ کا بوڑھا گمراہ چچا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع