30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
امیر المومنین فاروق اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ عَمِّ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے کہا:
|
انا باسلامك اذا اسلمت افرح منی باسلام الخطاب، ذکرابن اسحق [1]فی سیرتہ۔ |
مجھے آپ کے اسلام کی جتنی خوشی ہوئی اپنے باپ خطاب کے اسلام کی اتنی نہ ہوتی۔(اس کو ابواسحق اس کی سیرت میں ذکر کیا۔ت) |
حدیث سیزدہم:یونس بن بکیر فی زیادات مغازی ابن اسحق عن یونس بن عمرو عن ابی السفر:
|
قال بعث ابوطالب الی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال اطعمنی من عنب جنتك فقال ابوبکر ان اﷲ حرمھا علی الکافرین[2]۔ |
یعنی ابو طالب نے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کر بھیجی کہ مجھے اپنی جنت کے انگور کھلائے۔اس پر صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:بے شك اﷲ نے انہیں کافروں پر حرام کیا ہے۔ |
حدیث چہار دہم:الواحدی من حدیث موسٰی بن عبیدۃ قال اخبرنا محمد بن کعب القرظی،
|
قال بلغنی انہ لما اشتکی ابوطالب شکواہ التی قبض فیہا قالت لہ قریش ارسل الٰی ابن اخیك یرسل الیك من ھٰذہ الجنۃ التی ذکرھا یکون لك شفاء فارسل الیہ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ان اﷲ حرمھا علی الکافرین طعامھاوشرابہا ثم اتاہ فعرض علیہ الاسلام،فقال لولاان تعیربھا |
یعنی ابو طالب کے مرض الموت میں کافرانِ قریش نے صلاح دی کہ اپنے بھتیجے(صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم)سے عرض کرو کہ یہ جنت جو وہ بیان کرتے ہیں اس میں سے تمہارے لیے کچھ بھیج دیں کہ تم شفاء پاؤ۔ابوطالب نے عرض کر بھیجی حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے جواب دیا کہ اﷲ تعالٰی نے جنت کا کھانا پانی کافروں پر حرام کیا ہے،۔پھر تشریف لا کر ابو طالب پر اسلام پیش کیا۔ابو طالب نے کہا: لوگ حضور پر طعنہ کریں گے کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع