30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مالك فی مؤطاہ فانہ اسند اولا عن ابن شہاب بالسند المذکور فی الکتاب اعنی صحیح البخاری ان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم قال لایرث المسلم الکافر اھ [1]۔ثم قال مالك عن ابن شہاب عن علی بن حسین بن علی بن ابی طالب انہ اخبرہ انما ورث اباطالب عقیل وطالب ولم یرثہ علی قال علی فلذٰلك ترکنا نصیبنا من الشعب [2]اھ وھٰکذا رواہ محمد فی مؤطاہ عن مالك مفرقا مصرحا فقد بین واحسن احسن اﷲ الیہ والینا بہ امین۔ |
میں بیان فرمایا ہے،پہلے اس کو امام مالك نے ابن شہاب سے ذکر یعنی صحیح بخاری میں مذکور سند کے ساتھ ذکر کیا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا مسلمان کافر کا وارث نہیں بنتا ا ھ پھر کہا مالك نے ابن شہاب سے روایت کی اس نے علی بن حسین بن علی ابن ابی طالب سے،اس نے خبر دی کہ عقیل اور طالب ابو طالب کے وارث بنے جب کہ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ اس کے وارث نہ بنے۔ حضرت علی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا یہی وجہ ہے کہ ہم نے شعب ابی طالب سے اپنا حصہ ترك کردیا۔اسی طرح امام محمد نے اپنی کتاب مؤطا میں امام مالك سے صراحتًا روایت کیا انہوں نے خوب ظاہر کیا اور احسان کیا،اﷲ تعالٰی ان پر اور ہم پر احسان فرمائے۔امین(ت) |
حدیث یاز دہم:عمر بن شبہ کتاب مکہ میں اور ابویعلٰی وابوبشر اور سمویہ اپنے فوائد اور حاکم مستدرك میں بطریق محمد بن سلمہ بن ہشام بن حسان عن محمد بن سیرین قصہ اسلام ابی قحافہ والد امیر المومنین صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہما میں انس بن مالك رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے راوی:
|
قال فلما مدیدہ یبایعہ بکی ابوبکر فقال النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ما یبکیك قال لان تکون ید عمّك مکان یدہ ویسلم ویقر |
یعنی جب حضورِ اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اپنا دست انور ابوقحافہ سے بیعت اسلام لینے کے لیے بڑھایا،صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ روئے،حضور پرُنورصلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:کیوں روتے ہو؟ عرض کی:ان کے ہاتھ کی جگہ آج حضور کے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع