30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسئلہ ۱۲: از مدرسہ منظر الاسلام بریلی،مرسلہ مولوی اکبر حسین رام پوری طالب علم ۲۸ ربیع الاول شریف ۱۳۲۶ھ
بعالی خدمت اعلٰیحضرت مدظلہ العالی عرض ہے کہ ایك شعر کے معنی میں نہایت فکر کرتا ہوں لیکن سمجھ میں نہیں آتا،امید کہ میں حضور کی ذاتِ اقدس سے کامیاب ہوں گا،شعر یہ ہے: ؎
میری تعمیر میں مضمر اك صورت خرابی کی ہیولٰی برق خرمن کا ہے خون گرم دہقان کا
الجواب:
ہیولٰی مادے کو کہتے ہیں جس میں شے کی قابِلیت اور استعداد ہوتی ہے اور خون گرم سعی کا سبب کہ دہقان کی سعی سے کھیتی کی پیداوار ہے،اور اس کا محاصل خرمن،کہ برق گرے تو اسے بالکلیہ نیست و نابود کردے،تو کہتا ہے کہ وہ خون گرم دہقان کے سبب پیدا ہوا۔وہی برق خرمن کا مادہ بنا کر حرارت میں برق بننے کی استعداد تھی اور وہی بالاخر اپنے پیدا کردہ خرمن پر بجلی ہو کر گرا اور اسے فنا کرگیا تو اس تعمیر میں ویرانی کی صورت پنہاں تھی کہ:
لدواللموت وابنواللخراب
جیو مرنے کے لیے اور عمارتیں بناؤ خراب و برباد ہونے کے لیے۔
مسئلہ ۱۳: از پیلی بھیت محلہ احمد زئی مرسلہ مولوی سید محمد عمر الہ آبادی سہروردی ۱۸ رجب ۱۳۳۲ھ
(۱) من آن وقت بودم کہ آدم نبود کہ حوا عدم بود آدم نبود
(۲) من آں وقت کردم خداراسجود کہ ذات وصفات خدا ہم نبود
(۳) غور سے ہم نے محمد کو جو دیکھا فرحاں تین سو ساٹھ برس پایا خدا سے پہلے
(۱)میں اس وقت تھا کہ آدم نہ تھا کہ حوا معدوم تھی اور آدم نہ تھا۔
(۲)میں نے اس وقت خدا کو سجدہ کیا کہ خدا کی ذات و صفات بھی موجود نہ تھیں۔ت)
ان تینوں شعروں کا مطلب تحریر فرمائیے کہ یہ اشعار کس کے ہیں اور کس کتاب میں ہیں؟ ایك شخص نے مجھ سے ان شعروں کا مطلب دریافت کیا ہے مگر مجھے نہیں معلوم میں کیسے بتلاؤں لہذا آنجناب سے سوال ہے کہ مطلب تحریر فرمائیے فقط المستفتی محمد عمر۔
الجواب:
ایسے اشعار کا مطلب اس وقت پوچھا جاتا ہے جب معلوم ہو کہ قائل کوئی معتبر شخص تھا ورنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع