30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عمی اباطالب فی طمطام من النار فاخرجہ اﷲ لمکانہ منی واحسانہ الی فجعلہ فی ضحضاح من النّار[1]۔ |
سر سے اونچی آگ میں پایا،میری قرابت و خدمت کے باعث اﷲ تعالٰی نے اُسے وہاں سے نکال کر پاؤں تك آگ میں کردیا۔ |
مجمع نجار الانوار میں بعلامت کاف امام کرمانی شارح بخاری سے منقول:
|
نفع اباطالب اعمالہ ببرکتہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وان کان اعمال الکفرۃ ھباء منثورا[2]۔ |
یعنی نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی برکت سے ابوطالب کے اعمال نفع دے گئے ورنہ کافر وں کے کام تو نِرے برباد ہوتے ہیں۔ |
حدیث ہشتم:امام احمد مسند اور امام بخاری و مسلم اپنی صحاح میں حضرت عبداﷲ بن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
اھون اھل النار عذابا ابوطالب وھو منتعل بنعلین من ناریغلی منھما دماغہ [3]۔ |
بے شك دوزخیوں میں سب سے کم عذاب ابوطالب پر ہے وہ آگ کے دو جوتے پہنے ہوئے ہے جس سے اس کا دماغ کھولتا ہے۔ |
نیز صحیحین میں نعمان بن بشیر رضی اﷲ تعالٰی عنہما کی روایت سے ہی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
ان اھون اھل النار عذابا من لہ نعلان و شراکان من ناریغلی منھما دماغہ کما یغلی المرجل مایرٰی ان احدااشد منہ عذابا وانہ لاھونھم عذابا[4]۔ |
دوزخ میں سب سے ہلکے عذاب والا وہ ہے جسے آگے کے دو جوتے اور دو تسمے پہنائے جائیں گے جن سے اس کا دماغ دیگ کی طرح جوش مارے گا وہ یہ سمجھے گا کہ سب سے زیادہ سخت عذاب اسی پر ہے حالانکہ اس پر سب سے ہلکا عذاب ہوگا۔ |
اسی حدیث میں امام احمد کی ر وایت یوں ہے:
[1] المعجم الکبیر عن ام سلم حدیث ۹۷۲ المکتبۃ الفی صلیۃ بیروت ۲۳ /۴۰۵،المعجم الاوسط حدیث ۷۳۸۵ مکتبۃ المعارف ریاض ۸/ ۱۹۰
[2] مجمع بحار الانوار
[3] صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ علیہ وسلم لابی طالب قدیمی کتب خانہ کراچی ص۱۱۵
[4] صحیح مسلم کتاب الایمان باب شفاعۃ النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لابی طالب الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱/۱۱۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع