30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی طرح تسیرشرح جامع صغیر وغیرہ میں ہے۔
حدیث ششم:بزارو ابویعلٰی وابن عدی و تمام حضرت جابر بن عبداﷲ انصاری رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
قیل للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ھل نفعت ابا طالب قال اخرجتہ من غمرۃ جھنم الٰی ضحضاح منہا[1]۔ |
یعنی حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی گئی حضور نے ابوطالب کو کچھ نفع دیا۔فرمایا میں نے اسے دوزخ کے غرق سے پاؤں کی آگ میں کھینچ لیا۔ |
امام عینی عمدہ میں فرماتے ہیں۔
|
فان قلت اعمال الکفرۃ ھباء منثورا لافائدۃ فیھا قلت ھذاالنفع من برکۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وخصائصہ[2]۔ |
اس کا بھی وہی مطلب ہے کہ ابو طالب کو یہ نفع ملنا صرف حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی برکت سے ہے ورنہ کافروں کے اعمال تو غبار ہیں ہوا پر اڑائے ہوئے۔ |
حدیث ہفتم:طبرانی حضرت ام المومنین ام سلمہ رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
ان الحارث بن ھشام اتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم حجۃ الوداع فقال یارسول اﷲ انی کنت علی صلۃ الرحم والاحسان الی الجاروایواء الیتیم واطعام الضیف واطعام المسکین وکل ھذا قدن کا یفعلہ ھشام بن المغیرۃ فماظنك بہ یارسول اﷲ فقال رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کل قبر ای لایشہد صاحبہ ان لا الہٰ الا اﷲ فہوجذوۃ من النار، و قدوجدت |
یعنی حارث بن ہشام رضی اﷲ تعالٰی نے روز حجۃ الوداع حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم سے عرض کی۔یارسول اﷲ ! میں ان باتوں پر عمل کرتا ہوں۔رشتہ داروں سے نیك سلوك، ہمسایہ سے اچھا برتاؤ،یتیم کو جگہ دینا،مہمان کو مہمانی دینا، محتاج کو کھانا کھلانا اور میر اباپ ہشام یہ سب کام کرتا تھا تو حضور کا اس کی نسبت کیا گمان ہے ؟ فرمایا جو قبر بنے جس کا مردہ لاالٰہ الا اﷲ نہ مانتا ہو وہ دوزخ کا انگارا ہے میں نے خود اپنے چچا ابوطالب کو |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع