30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عن اذیتہ لانّ ذلك حسن لایوجب الھلاك[1] ۱ھ۔
اقول:اصل الذم النسائی وقد تشدد بالنھی فان الذنب بعد العلم اشد منہ حین الجہل فذکر النھی لا بانۃ شدۃ ما یلحقہ من الذم فی ذلك و عظمۃ ما یعتریہ من الوزر فیما ھنالك فان العلم حجۃ اﷲ مالك وعلیك الا تری الٰی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فی ابی طالب ولو لا انا لکان فی الدرك الا سفل من النار[2]کما سیأتی مع ما علم من حمایتہ وکفالتہ و نصرتہ ومحبتہ للنبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم طول عمرہ فانما کادیکون فی الدرك الاسفل لولا شفاعۃ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لما ابی الایمان مع کما العرفان فالایۃ |
اور یہ مناسب نہیں کہ اﷲ تعالٰی کے ارشاد "اور وہ اس سے روکتے ہیں " سے مراد نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ایذاء رسانی سے روکنا ہو اس لیے کہ یہ تو حسن ہے جو موجبِ ہلاکت نہیں ہوتا اھ(ت) میں کہتا ہوں اصل مذمت تو نأی یعنی دور رہنے کی وجہ سے ہے جونہی کے سبب سے شدید ہوگئی،کیونکہ علم کے بعد گناہ اس گناہ سے زیادہ شدید ہوجاتا ہے جو زمانہ جہالت میں کیا گیا ہو۔چنانچہ نہی کا یہاں ذکر اس شدت و عظمت کے اظہار کے لیے جو اس سے ملحق گناہ اور بوجھ سے متعلق ہوتی ہے کیونکہ علم اﷲ۱ تعالٰی کی حجرت ہے تیرے حق میں اور تیرے خلاف کیا تو ابو طالب کے بارے میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کو نہیں دیکھا دیکھا کہ اگر میں نہ ہوتا تو وہ جہنم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتا۔جیسا کہ عنقریب آئے گا ابوطالب کی طرف سے تمام عمر نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی شفاعت نہ ہوتی تو ابوطالب جنہم کے سب سے نچلے طبقے میں ہوتے کیونکہ کمال معرفت کے باوجود نے انہوں سے انکار کیا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع