30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یتباعد عما جاء بہ [1]۔
قال فی مفاتیح الغیب فیہ قولان منھم من قال المراد انھم ینھون عن التصدیق نبوتہ والاقرار برسالتہ وقال عطاء ومقاتل نزلت فی ابی طالب کان ینھی قریشا عن ایذاء النبی علیہ الصلوۃ والسلام ثم یتباعد عنہ ولا یتبعہ علی دینہ،و القول الاول اشبہ لوجہین الاول ان جمیع الایات المتقدمۃ علی ھٰذہ الایۃ تقتضی ذم طریقتھم فلذلك قولہ وھم ینہون عنہ ینبغی ان یکون محمولا علی امر مذموم فلو حملناہ علی ان ابا طالب کان ینھٰی عن ایذاءہ لما ح صل ھذا النظم،والثانی انہ تعالٰی قال بعد ذلك "وان یہلکون الا انفسھم" یعنی بہ ما تقدم ذکرہ ولا یلیق ذلك ان یکون المراد من قولہ "وھم ینہون عنہ" النھی |
ایذا سے منع کرتے باز رکھتے اور حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم پر ایمان لانے سے دور رہتے۔ مفاتیح الغیب میں فرمایا اس میں دو قول ہیں ان میں سے بعض نے کہا مراد یہ ہے کہ وہ حضور پرنور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی نبوت کی تصدیق اور آپ کی رسالت کے اقرار سے روکتے ہیں جب کہ عطاء اور مقاتل نے کہا کہ وہ یہ آیت کریمہ ابو طالب کے بارے میں نازل ہوئی وہ قریش کو نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے پھر خود آپ سے دور رہتے اور دین میں آپ کی اتباع نہیں کرتے تھے، قولِ اوّل دو وجہ سےزیادہ مناسب ہے۔وجہ اوّل:یہ ہے کہ اس آیۃ کریمہ سے ماقبل والٰی تمام آیتِ قریش کے طریقہ کی مذمت کا تقاضا کرتی ہیں۔اسی طرح یہ اﷲ تعالٰی کا قول وھم ینہون عنہ(یعنی وہ اس سے روکتے ہیں)بھی امر مذموم پر محمول ہونا چاہیے اگر ہم اس کو اس معنی پر محمول کریں کہ ابو طالب نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی ایذا رسانی سے روکتے تھے تو یہ نظم مذکور حاصل نہ ہوگا۔وجہ ثانی یہ ہے کہ اﷲ تعالٰی نے اس کے بعد فرمایا ہے کہ وہ خود اپنی ہی جانوں کو ہلاك کرتے ہیں۔اس سے مراد وہی ہے جس کا پہلا ذکر ہوچکا ہے۔ |
[1] الدرالمنثور بحوالہ الفریابی و عبدالرزاق وغیرہ تحت آلایۃ ۶ /۲۶ داراحیاء التراث العربی ۳ /۲۳۷،جامع البیان(تفسیر طبری)تحت آیۃ ۶ /۲۶ داراحیاء التراث العربی بیروت ۷ /۲۰۲،دلائل النبوۃ للبیھقی جماع ابواب المبعث باب وفاۃ ابی طالب،دارالکتب العلمیہ بیروت۲ /۳۴۰، تفسیر ابن ابی حاتم تحت آیہ ۶/ ۲۶ مکتبہ نزار مصطفٰی البازمکہ مکرمہ ریاض ۴ /۱۲۷۷
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع