30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
مانزل من اٰیات السور المکیۃ بالمدینۃ وبالعکس وذکر فیہ عن بعضھم ان اٰیۃ ماکان للنبی اٰیۃ مکیۃ نزلت فی قولہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا بی طالب لا ستغفرن لك مالم انہ عنہ واقرہ [1]علیہ فعلی ھذا یزھق الاشکال من راسہ ثم ان لفظ البخاری فی کتاب التفسیر فانزل اﷲ بعد ذلك قال الحافظ فی فتح الباری الظاھر نزولہا بعدہ بمدۃ الروایۃ التفسیر [2] ا ھ وھذاایضا یطیع الشبھۃ من راسھا افاد ھٰذین العلامۃ الزرقانی فی شرح المواہب وبعد اللتیا والتی اذقدافصح الحدیث الصحیح بنزولہا فیہ فکیف ترد الصحاح بالھوسات۔ |
سورتوں کی کون سی آیات مدینہ میں نازل ہوئی ہیں اور اس کے برعکس(یعنی مدنی سورتوں کی کون سی آیات مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ہیں)اور اس میں بعض مفسرین کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ آیتِ کریمہ ماکان للنبی مکی ہے اور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بارے میں نازل ہوئی جو آپ نے ابو طالب سے فرمایا کہ جب تك مجھے منع نہ کیا گیا میں تیرے لیے استغفار کروں گا اور امام سیوطی نے اس کو برقرار رکھا اس بنیاد پر تو اشکال سرے سے ہی دفع ہوجائے گا۔پھر کتاب التفسیر میں بخاری کے لفظ یہ ہیں کہ اس کے بعد اﷲ تعالٰی نے یہ آیت کریمہ نازل فرمائی،حافظ نے فتح الباری میں کہا روایت تفسیر کی بنیاد پر ظاہر یہ ہے کہ اس کا نزول سرکارِ دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے ارشادِ مذکور سے کچھ مدت کے بعد ہوا ا ھ یہ بھی سرے سے شبہہ کا ازالہ کردیتا ہے،علامہ زرقانی نے شرح مواہب میں ان دونوں کا افادہ فرمایا،اس لمبی اور مختصر گفتگو کے بعد جب حدیث صحیح نے ابو طالب کے بارے میں نزول آیت کی تصریح کردی تو خواہشات کے ساتھ صحیح حدیثوں کو کیسے رَد کیا جاسکتا ہے۔(ت) |
آیت ثالثہ:قال عزّ مجدہ(اﷲ عزّمجدہ نے فرمایا۔ت):
|
" وَ ہُمْ یَنْہَوْنَ عَنْہُ وَ یَنْـَٔوْنَ عَنْہُ ۚ وَ اِنۡ یُّہۡلِکُوۡنَ اِلَّاۤ اَنۡفُسَہُمْ وَ |
وہ اس نبی سے اوروں کو روکتے اور باز رکھتے ہیں اور خود اس پر ایمان لانے سے بچتے اور دور رہتے |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع