30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
قال فی فتوح الغیب وھذاھوالحق وروایۃ نزولہا فی ابی طالب ھی الصحیحۃ [1] اھ وکذاردہ الامام الرازی فی الکبیر وقال العلامۃ الخفاجی فی عنایۃ القاضی بعد نقل کلام التقریب اعتمدہ من بعدہ،من الشراح ولاینا فیہ قولہ فی الحدیث فنزلت لامتداداستغفار ہ لہ الی نزدلھا اولان الفاء للسببیۃ بدون تعقیب [2]اھ۔
اقول:والدلیل علی الاستمرار واستدامۃ الاستغفار قول سیدالابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لا ستغفرن لك مالم انہ عنہ [3] فھذا مقام الجزم دون التجویز و الاستظہار،علا ان الامام الجلیل الجلال السیوطی فی کتاب الاتقان [4]عقد فصلالبیان |
شدت پسندی تو اس سورۃمیں ظاہر ہوئی ہے۔اھ امام قسطلانی نے فرمایا کہ فتوح الغیب میں ہے کہ یہی حق ہے اور اس کے ابوطالب کے بارے میں نزول والی روایت ہی صحیح ہے اھ امام رازی نے تفسیر کبیر میں یونہی زمخشری کا رد کیا ہے،اور علامہ خفا جی نے عنایۃ القاضی میں تقریب کا کلام نقل کرنے کے بعد کہا کہ بعد والے تمام شارحین نے اس پر اعتماد کیا ہے اور یہ حدیث میں وارد راوی کے قول فنزلت کے منافی نہیں اس لیے کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے نزول آیتِ تك ابوطالب کے لیے استغفار میں استمرار فرمایا یا اس لیے کہ فاء سببیت کے لیے ہے نہ کہ تعقیب کے لیے ا ھ(ت) میں کہتا ہوں کہ استغفار کے استمرار و دوام پر دلیل سید الابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا یہ ارشاد ہے کہ میں تیرے لیے ضرور استغفار کروں گا جب تك مجھے منع نہ کیا گیا۔لہذا یہ مقام جزم ہے نہ کہ مقام تجویز و تائید،علاوہ ازیں امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے کتاب الاتقان میں یہ بیان کرنے کے لیے ایك فصل قائم فرمائی ہے کہ مکی |
[1] ارشاد الساری شرح صحیح البخاری کتاب التفسیر سورۃ توبہ دارالکتاب العربیۃ بیروت ۷ /۱۵۸
[2] عنایۃ القاضی حاشیۃ الشھاب علی تفسیر البیضاوی تحت آیۃ ۹/ ۱۱۳ دارالکتب العلمیۃ بیروت ۴ /۶۴۸
[3] صحیح البخاری کتاب المناقب باب قصہ ابی طالب ۱ /۵۴۸ و سورۃ التوبۃ ۲/ ۶۷۵ وسورۃ القصص ۲/ ۷۰۳،صحیح مسلم کتاب الایمان باب الدلیل علی صحۃ الاسلام من حضر الموت الخ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۴۰
[4] الاتقان فی علوم القرآن فصل فی ذکر ما استثنی من المکی والمدنی دارالکتاب العربی بیروت ۱/ ۷۳
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع