30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جلالین میں ہے:
|
نزل فی استغفارہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم لعمہ ابی طالب[1]۔ |
یہ آیت حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے اپنے چچا ابو طالب کے لیے استغفار کرنے کے بارے میں نازل ہوئی۔(ت) |
امام عینی عمدۃ القاری شرح صحیح بخاری میں فرماتے ہیں:قال الواحدی سمعت ابا عثمان الحیری سمعت ابا الحسن بن مقسم سمعت ابا اسحق الزجاج یقول فی ھذہ الایۃ اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب[2]۔ یعنی واحدی نے اپنی تفسیر میں بسند خود ابواسحاق زجاج سے روایت کی کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت ابوطالب کے حق میں اُتری۔
|
اقول:ھکذااثرہ ھٰھنا والمعروف من الزجاج قولہ ھٰذا فی الایۃ الاولٰی کما سمعت والمذکور ھٰھنا فی المعالم وغیرھا فلیراجع تفسیر الواحدی فلعلہ اراد اتفاق الاکثر ین و لم یلق للخلاف بالالکونہ خلاف ماثبت فی الصحیح۔ |
میں کہتا ہوں یہاں تو وہ ایسا ہی منقول ہے حالانکہ زجاج کا یہ قول پہلی آیت کے بارے میں معروف ہے جیسا کہ تو سُن چکا ہے،اور معالم وغیرہ میں اس مقام پر مذکور ہے کہ آیت کے سبب نزول میں اختلاف ہے چنانچہ تفسیر واحدی کی طرف مراجعت کی جائے ہوسکتا ہے کہ اُس کی مراد اکثر مفسرین کا اتفاق ہو اور اس نے مخالفت کی اس بنیاد پر کوئی پروانہ کی ہو کہ اس کے مخالف ہے جو صحیح میں ثابت ہوچکا ہے۔(ت) |
بیضاوی میں پہلا قول اس آیت کا نزول دربارہ ابی طالب لکھا۔
علامہ شہاب خفا جی اُس کی شرح عنایۃ القاضی وکفایۃ الراضی میں فرماتے ہیں:ھوالصحیح فی سبب النزول[3]۔یعنی یہی صحیح ہے۔
اسی طرح اس کی تصحیح فتوح الغیب و ارشاد الساری میں کی ہے اور فرمایا یہی حق ہے۔ کما سیأتی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع