30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
عند الموت)قل لا الہ الا اﷲ اشھد لك بھا یوم القیٰمۃ قال لولا ان تعیرنی قریش یقولون انما حملہ علی ذلك الجزع لاقررت بھا عینك فانزل اﷲ عزوجل " اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ"[1]۔ |
دوسری روایت میں یہ اضافہ کیا کہ بوقت موت فرمایا)لاالہ الا اﷲ کہہ دو میں تیرے لئے قیامت کے دن اس کی گواہی دوں گا۔اس نے جواب دیا:اگر یہ بات نہ ہوئی کہ قریش مجھے عار دلائیں گے کہ موت کی شدت کے باعث مسلمان ہوگیا تو میں آپ کی آنکھ ٹھنڈی کردیتا۔اس پر اﷲ تعالٰی نے یہ آیت نازل فرمائی کہ:اے نبی ! "تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو،ہاں خدا ہدایت دیتاہے جسے چاہے "۔(ت) |
معالم ومدارك وبیضاوی وارشاد العقل السلیم وخازن و فتوحات الہیہ وغیرھا تفاسیر میں اسی حدیث کا حاصل اس آیت کے نیچے ذکر کیا۔
آیت ثانیہ:قال جل جلالہ(اﷲ جل جلالہ نے فرمایا):
|
" مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اَنۡ یَّسْتَغْفِرُوۡا لِلْمُشْرِکِیۡنَ وَلَوْکَانُوۡۤا اُولِیۡ قُرْبٰی مِنۡۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَہُمْ اَنَّہُمْ اَصْحٰبُ الْجَحِیۡمِ ﴿۱۱۳﴾ " [2]۔ |
روا نہیں نبی اور ایمان والوں کو کہ استغفار کریں مشرکوں کے لئے اگرچہ وہ اپنے قرا بت والے ہوں بعد اس کے کہ ان پر ظاہر ہوچکا کہ وہ بھڑکتی آگ میں جانیوالے ہیں۔ |
یہ آیت کریمہ بھی ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔تفسیر امام نسفی میں ہے:
|
ھم علیہ الصلوۃ والسلام ان یستغفر لابی طالب فنزل ماکان للنبی [3]۔ |
رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ارادہ فرمایا کہ ابو طالب کے لئے استغفار کریں تو یہ آیت کریمہ نازل ہوئی کہ " نبی کو یہ روا نہیں"۔(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع