30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آیاتِ قرآنیہ و احادیثِ صحیحہ متوافرہ متظافرہ سے ابوطالب کا کفر پر مرنا اور دم واپسیں ایمان لانے سے انکار کرنا اور عاقبت کا ر اصحاب نار سے ہونا ایسے روشن ثبوت سے ثابت جس سے کسی سنی کو مجالِ دم زدن نہیں،ہم یہاں کلام کو سات فصل پر منقسم کریں۔
فصل اوّل_________آیاتِ قرآنیہ
آیتِ اُولٰی:قال اﷲ تبارك و تعالٰی(اﷲ تبارك و تعالٰی نے فرمایا۔ت):
|
" اِنَّکَ لَا تَہۡدِیۡ مَنْ اَحْبَبْتَ وَلٰکِنَّ اللہَ یَہۡدِیۡ مَنۡ یَّشَآءُ ۚ وَ ہُوَ اَعْلَمُ بِالْمُہۡتَدِیۡنَ ﴿۵۶﴾ "[1]۔ |
اے نبی ! تم ہدایت نہیں دیتے جسے دوست رکھو ہاں خدا ہدایت دیتا ہے جسے چاہے وہ خوب جانتا ہے جو راہ پانے والے ہیں۔ |
مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیہ کریمہ ابوطالب کے حق میں نازل ہوئی۔معالم التنزیل میں ہے:
|
نزلت فی ابی طالب [2]۔ |
ابو طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت) |
جلالین میں ہے:
|
نزل فی حرصہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم علٰی ایمان عمّہ ا بی طالب[3]۔ |
یہ آیت حضور اکرم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی آپ کے چچا ابو طالب کے ایمان لانے کی حر ص میں نازل ہوئی۔(ت) |
مدارك التنزیل میں ہے:
|
قال الزجاج اجمع المفسرون انھا نزلت فی ابی طالب[4]۔ |
زجاج نے کہا کہ مفسرین کا اجماع ہے کہ یہ آیت کریمہ ابی طالب کے حق میں نازل ہوئی۔(ت) |
کشاف زمحشری و تفسیر کبیر میں ہے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع