30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
سیوردھا وکأن قد حان فیدرك القدرفاذاھوتائب ارسلت خیر خلقك وسراج افقك محمدا المبعوث بیسرك ورفقك بشیرا و نذیرا و سراجا منیرا ملأ ضؤوہ المشارق والمغارب وعم نورہ الاباعد والاقارب وحرم بقرب حضرتہ من حضرۃ قربہ ابوطالب فلك الحجۃ السامیۃ صل علٰی محمد صلاۃ نامیۃ وعلٰی اٰلہ وصحبہ واھلہ وحزبہ صلاۃ ترضیك وترضیہ وتحفظ المصلی عما یردیہ وبارك وسلم ابدا ابدا والحمدﷲ دائما سرمدًا امین اٰمین یا ارحم الراحمین ! |
گمان کرنے لگتے ہیں کہ عنقریب یہ جنت میں داخل ہوجائے گا گویا کہ ایسا ہوگیا۔پھر اس پر لکھا ہوا غالب آجاتا ہے تو وہ ناکام ہوجاتا ہے اور کوئی عامل جنہمیوں جیسے کام کرتا رہتا ہے یہاں تك کہ اس کے پڑوسی اور دیگر لوگ سمجھنے لگتے کہ عنقریب یہ اُس میں داخل ہوگا اور گویا کہ اس کا وقت قریب ہوچکا ہے، پھر تقدیر اُس کو پالیتی ہے تو وہ تائب ہوجاتا ہے،تُو نے اپنی مخلوق میں سے بہترین کو بھیجا جو تیرے افق کا سراج ہے یعنی محمد مصطفٰی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم جو تیری طرف سے آسانی اور نرمی کے ساتھ مبعوث ہوئے خوشخبری سناتے،ڈر سناتے، چمکادینے والے چراغ جس کی روشن نے مشرقوں اور مغربوں کو بھر دیا،اس کا نور دور و نزدیك والوں کو عام ہے۔اور ابو طالب اس کی بارگاہ کے قریب کے باوجود اس کی بارگاہ قرب سے محروم رہے۔چنانچہ تیری ہی حجت بُلند ہے۔محمد مصطفٰی آپ کی آل،آپ کے اصحاب،آپ کے اہلِ خانہ اور آپ کی جماعت پر ایسا پڑھنے والا درود نازل فرما جو تجھے بھی پسند ہو اور انہیں بھی پسند ہو جو درود پڑھنے والے کو ہلاکت سے بچائے اور برکت و سلام نازل فرما ہمیشہ کے لیے۔اور ہر حمد ہمیشہ ہمیشہ اﷲ ہی کے لیے ہے۔اے بہترین رحم فرمانے والے! ہماری دُعا کو قبول فرما(ت) |
اس میں شك نہیں کہ ابوطالب تمام عمر حضور سیّد المرسلین سیّدالاولین و الاخرین سیدالابرار صلی اﷲ تعالٰی علیہ وعلی آل وسلم الٰی یوم القرار کی حفظ و حمایت و کفایت و نصرت میں مصروف رہے۔اپنی اولاد سے زیادہ حضور کو عزیز رکھا،اور اس وقت میں ساتھ دیا کہ ایك عالم حضور کا دشمنِ جاں ہوگیا تھا،اور حضور کی محبت میں اپنے تمام عزیزون قریبیوں سے مخالفت گوارا کی،سب کو چھوڑ دینا قبول کیا،کوئی دقیقہ غمگساری و جاں نثاری کا نامرعی نہ رکھا،اور یقینًا جانتے تھے کہ حضور افضل المرسلین صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اﷲ کے سچے رسول ہیں،ان پر ایمان لانے میں جنت ابدی اور تکذیب میں جہنم دائمی ہے،بنوہاشم کو مرتے وقت وصیت کی کہ محمد صلی اﷲ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع