30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یستمر فی الجنۃ فلم یثبت وقوع العقد فیہا کما نقلہ الحموی فی النکاح عن العلامۃ محمد بن ابی شریف اقول: وای حاجۃ الیہ بعد قولہ تعالٰی " وَ زَوَّجْنٰہُمۡ بِحُوۡرٍ عِیۡنٍ ﴿ؕ۵۴﴾"[1]کما لم تحتج الیہ ام المؤمنین زینب رضی اﷲ تعالٰی عنہا بعد قولہ عزوجل " زَوَّجْنٰکَہَا"[2]۔ |
کا یہ قول ہے کہ پھر وہ جنت میں جاری رہے گی چنانچہ جنت میں وقوع ِ عقد ثابت نہیں جیسا کہ اس کو علامہ حموی نے باب النکاح میں بحوالہ علامہ محمد بن ابوشریف نقل فرمایا ہے۔ میں کہتا ہوں ا ور اس کی کیا ضرورت ہے اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کے بعد اور ہم نے انہیں بیاہ دیا بڑی آنکھوں والی حوروں کے ساتھ جیسا کہ نہیں محتاج ہوئیں اس کی طرف ام المومنین سیّدہ زینب رضی اﷲ تعالٰی عنہا اﷲ تعالٰی کے اس ارشاد کے بعد ہم نے وہ تمہیں نکاح میں دے دی۔ت) |
اقول:تحقیق یہ ہے کہ یہ اختلافِ حیثیت ہے ورنہ وضعًا ان میں سے کچھ عبادات نہیں ولہذا قضا بھی کافر سے صحیح ہے جب کہ امام نے اُسے ذمیوں کا قاضی بنایا ہو اور عتق بھی عبادت ہے جب کہ نیت مذکورہ کے ساتھ ہو اور ثواب نیت پر مطلقًا موقوف اگرچہ فعل عبادت نہ ہو اور یہیں سے ظاہر کہ اخیر میں جو افعال ذکر کیے یعنی اقامت حدود وتعزیرات وافعال حکام و ولاۃ وادا و تحمل و شہادت سب کی تشبیہ قضا کے ساتھ بشرط عبادت ہوجانے میں بھی ممکن نہ صرف توقف ثواب علی النیتہ میں کہ مطلقًا ہر فعل کو حاصل۔۔۔۔۔۔(جواب نامکمل دستیاب ہوا)
مسئلہ ۲۱۴: از بمبئی کلابا کافی شاپ سید وزیر علی صاحب مسئولہ محمد ابراہیم صاحب ۵جمادی الاخر ۱۳۳۹ھ
بحضور فیض گنجور پیر روشن ضمیر جناب مولانا مولوی احمد رضا خاں صاحب بریلوی،بعد آدابِ خادمانہ کے عرض پرداز ہوں کہ یہاں پر عیسائیوں کا(عیسائی)بہت زور شور ہے اور ہر وقت یہ لوگ پریشان کرتے ہیں،فی الحال ان کے دو۲ سوال جن کے حل کرنے کے واسطے عرض کی جاتی ہی ہم لوگ حضور کے خادم اور نام لینے والے حضور کو ہی ہماری لاج ہے(۱)کلمہ شریف(لا الہٰ الّا اﷲ محمد رسول اﷲ)یہ قرآن میں کس جگہ لکھا ہے اگر نہیں تو وہ اس کی تشریح مانگتے ہیں۔
(۲)حضور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کو کہتے ہیں کہ وہ شافع محشر کس طرح سے ؟ اس کا ثبوت
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع