30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان قصد التقرب فلہ الثواب والافھی صحیحۃ فقط واما الوقف فلیس بعبادۃ وضعا بدلیل صحتہ من الکافر فان نوی القربۃ فلہ الثواب والا فلا،واما النکاح فقالوا انہ اقرب الی العبادات حتی الاشتغال بہ افصل من التخلی لمحض العبادۃ وھو عندالاعتدال سنۃ مؤکدۃ علی الصحیح فیحتاج الی النیۃ لتحصیل الثواب وھو ان یقصداعفاف نفسہ وتحصینہا و حصول ولد قدفسرنا الاعتدال فی الشرع الکبیر شرح الکنز ولما لم تکن النیۃ فیہ شرط صحتہ قالوا یصح النکاح مع الھزل وعلٰی ھذا سائر القرب لا بدفیھا من النیۃ بمعنی توقف حصول الثواب علٰی قصد التقرب بہا الٰی اﷲ تعالٰی من نشرالعلم تعلیما و افتاء وتصنیفا واما القضاء فقالوا انہ من العبادات فالثواب علیہ متوقف علیھا وکذلك اقامۃ الحدود و التعازیر وکل |
اگر تقرب کا ارادہ کرے گا تو اسے ثواب ملے گا ورنہ فقط وہ صحیح ہوجائے گی۔رہا وقف،تو وضع کے اعتبار سے عادت نہیں ہے، اس پر دلیل یہ ہے کہ وہ کافر کی طرف سے بھی صحیح ہوجاتا ہے،چنانچہ اگر تقرب کی نیت کرے گا تو اسے ثواب ملے گا ورنہ نہیں۔لیکن نکاح اس کے بارے میں تو مشائخ نے کہا کہ وہ عبادات کے قریب ترین ہے یہاں تك کہ اس میں مشغول ہونا محض عبادت کے لیے خلوت سے افضل ہے۔اور صحیح قول کے مطابق اعتدال کے وقت نکاح سنتِ مؤکدہ ہے۔ چنانچہ ثواب حاصل کرنے کے لیے اس میں نیت کی حاجت ہے اور وہ یہ کہ نفس کی پاکدامنی اور اولاد حاصل کرنے کا قصد کرے۔اور اعتدال کی تفسیر ہم نے کنز کی شرح "شرح الکبیر میں کردی ہے۔اور جب نکاح کے صحیح ہو نے کےلیے نیت شرط نہیں ہے تو فقہاء نے کہا ہے کہ نکاح ہزل کے ساتھ بھی صحیح ہوجائے گا۔اسی پر باقی عبادات کو قیاس کیا جائے گا کہ ان میں نیت ضروری ہے بایں معنی کہ ثواب کا حصول اس بات پر موقوف ہے کہ ان میں اﷲ تعالٰی کے تقرب کا ارادہ کرے جیسے علم کو پھیلانا چاہیے کسی کو علم سکھا کر یافتوٰی دے کر یا کوئی کتاب لکھ کر۔رہا قاضی بننا تو مشائخ نے فرمایا کہ وہ عبادات میں سے ہے چنانچہ اس میں ثواب عبادت کی نیت پر موقوف ہوگا۔اسی طرح حدود و تعزیرات کا قائم کرنا اور |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع