30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۶)فقہاءکبھی نفسِ فعل پر نظر کرتے ہیں اگر وہ وضعًا عبادت نہیں اسے عبادت نہیں کہتے جیسے عتق ووقف اور کبھی نیت مخصوصہ کے ساتھ دیکھتے اور عبادت کہتے ہیں،جیسے قضا،عنایہ میں اسے منجملہ اشرف عبادات بتایا ہی حتی کہ درمختار وغیرہ میں نکاح کو بھی عبادت فرمایا۔علامہ حموی نے اس سے مراد جماع حلیلہ ٹھہرایا۔ اشباہ میں ہے:
|
اماالعتق فعندنالیس بعبادۃ وضعا بدلیل صحتہ من الکافر و لاعبادۃ لہ فان نوی وجہ اﷲ تعالٰی کان عبادۃ مثابا علیہ وان اعتق بلانیۃ صح ولاثواب لہ ان کان صریحا،واما الکنایات فلابد لھا من النیۃ فان اعتق للصنم اوللشیطان صح و اثم وان اعتق لاجل مخلوق صح و کان مباحا لاثواب ولا اثم وینبغی ان یخصص الاعتاق للصنم بما اذا کان المعتق کافرا،اما المسلم اذا اعتق لہ قاصد ا تعظیمہ کفر کما ینبغی ان یکون الاعتاق لمخلوق مکروھا والتدبیر والکتابۃ کا لعتق،واما الجہاد فمن اعظم العبادات فلابہ لہ من خلوص النیۃ،واما الوصیۃ فکان لعتق |
لیکن عتق تو وہ ہمارے نزدیك وضع کے اعتبار سے عبادت نہیں اس دلیل کے ساتھ کہ عتق کافر سے بھی صحیح ہوجاتا ہے جب کہ کافر کا کوئی فعل عبادت نہیں ہوتا۔اگر آزاد کرنے والا اﷲ کی رضا کی نیت کرے تو یہ عتق عبادت بن جائے گا جس پر ثواب دیا جائے گا اور اگر اس نے نیت کے بغیر آزاد کیا تو صحیح ہے اور اس کے لیے کوئی ثواب نہیں ہوگا اگر یہ صریح ہے،ر ہے کنایات تو ان میں نیت ضروری ہے اگر کسی نے بت یا شیطان کے لیے غلام کوآزاد کیا تو صحیح ہے اور وہ گنہگار ہوگا۔اور اگر مخلوق کے لیے آزاد کیا تو صحیح اور مباح ہے اس پر نہ تو اُسے ثواب ہوگا۔نہ ہی گناہ،اور بُت کے لیے آزاد کرنے میں یہ تخصیص ہونی چاہیے کہ جب آزاد کرنے والا کافر ہو۔رہا مسلمان اگر وہ بُت کے لیے آزاد کرے درانحالیکہ وہ بُت کی تعظیم کا ارادہ کرنے والا ہو تو وہ کافر ہوجائے گا۔جیسا کہ مخلوق کے لیے آزاد کرنا مکروہ ہونا چاہیے۔مدبر بنانا اور مکاتب بنانا عتق کی طرح ہے لیکن جہاد تو وہ سب سے بڑی عبادتوں میں سے ہے۔چنانچہ اس کے لیے خلوص نیت ضروری ہے،لیکن وصیت تو وہ عتق کی مثل ہے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع