30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تاج العروس میں نقل کیا:
|
العبادۃ فعل مایرضی بہ الرب[1]۔ |
عبادت وہ فعل ہے جس کے کرنے پر رب راضی ہوتا ہے۔(ت) |
یہ تعریفیں بجائے خود قابلِ تعریف ہیں وانا اقول:وباﷲ التوفیق(اور میں کہتا ہوں اﷲ تعالٰی کی توفیق سے۔ت)عبادت کسی کو اقصی غایات تعظیم کا مستحق جان کر اس کی تعظیم بجالانا ہے اور اسی سے باعتقادمذکور اس کے لیے تذلّل نیز اس کے امر کا امتثال اس حیثیت سے کہ اس کا امر ہے،اس تعریف کی تسجیل اور اور اُن تحریفات کے مالہا وما علیہا کی تفصیل موجبِ تطویل یہاں بعض نکت کے طرف ایما کریں۔
فاقول: وبہ استعین(تو میں کہتا ہوں اور اسی سے مدد چاہتا ہوں۔ت)
(۱)عبادت حقّہ کو مستحقِ عبادت عزّجلالہ،کے لیے ہواس میں اُس فعل کا واقعی تعظیم ہونا ضرور،مجرد،زعم فاعل کافی نہیں،اور عبادتِ باطلہ میں اس کا زعم بس،مکاء وتصدیہ مشرکین عبادتِ الٰہی نہ تھا اور بُتوں کے سامنے اُن کا سنکھ اور گھنٹی بجانا عبادت، اگرچہ یہ بیہودہ افعال حقیقۃً تعظیم نہ ہوں،یونہی امتثال امر میں عبادت حقہ جب ہی ہے کہ واقعی وہ اس کا امر ہو،کفار کا " وَاللہُ اَمَرَنَا بِہَا ؕ"[2]۔(اﷲ نے ہمیں اس کا حکم دینا۔ت)کہنا اگر واقعی اُن کے زعم میں بھی ہو مراد وہی اور عبادتِ باطلہ میں صرف زعم کافی۔
(۲)عبادت کے لیے نیت شرط ہے اور معرفتِ معبود لازم،جیسا کہ اس کی تعریف سے ظاہر ہے،اور کوئی کافر اصلًا رب عزوجل کو نہیں جانتا جس کی تحقیق ہمارے رسالہ باب العقائد والکلام میں ہے۔ اور امام رستغفنی نے تصریح فرمائی کہ:
|
الکفرھو الجہل باﷲ تعالٰی[3]۔ |
کفریہ ہے کہ اﷲ تعالٰی کو نہ جانے(ت) |
ولہذا کافر نہ اہلِ نیت ہے نہ اہل عبادتِ حقہ"،کما نصوا علیہ قاطبۃ جیسا کہ اس پر سب نے نص فرمائی۔(ت)اور مشرك عبادت باطلہ کرتا ہے کہ اپنے معبود باطل کا تصور کرکے اس کی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع