30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ٹوٹ گیا اور قافلہ فلاں دن طلوع شمس کے وقت آئے گا۔یہ مدت جو ارشاد ہوئی منزلوں کے حساب سے قافلہ کے لیے بھی کسی طرح کافی نہ تھی۔جب وہ دن آیا کفار پہاڑ پر چڑھ گئے کہ کسی طرح آفتاب چمك آئے اور قافلہ نہ آئے اور قافلہ نہ آئے تو ہم کہہ دیں کہ دیکھو معاذ اﷲ وہ خبر غلط ہوئی۔کچھ جانبِ شرق طلوع آفتاب کو دیکھ رہے تھے کچھ جانبِ شام راہ قافلہ پر نظررکھتے تھے اُن میں سے ایك نے کہا:وہ آفتاب چمکا،کہ اُن میں سے دوسر ابولا کہ وہ قافلہ آیا۔یہ ہوتی ہے سچی نبوت جس کی خبر میں سرمُوفرق آنا محال ہے۔
قادیانی سے زیادہ تو اُن کفار ِ مکہ ہی کی عقل تھی وہ جانتے تھے کہ ایك بات میں بھی کہیں فرق پڑ جائے تو دعوٰی نبوت معاذ اﷲ غلط ہوجائے گا۔مگر یہ جھوٹا نبی ہے کہ جھوٹ کے پھینکے اڑاتا ہے اور نہ وہ شرماتا ہے۔اور نہ اس کے ماننے والوں کو اس کا حس ہوتا ہے بلکہ دریکمال شوخ چشمی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کہ ہاں ہاں اگلے چار سو انبیاء کی بھی پیشگوئیاں غلط ہوئیں اور وہ جھوٹے یعنی پنجاب کا جھوٹا کذاب نبی اگر دروغ گو نکلا کیا پروا ہ ہے اس سے پہلے بھی چار سو نبی جھوٹے گزر چکے ہیں۔یہ کوئی نہیں پوچھتا کہ جب نبوت اور جھوٹ جمع ہوسکتے ہیں تو انبیاء کی تصدیق شرطِ ایمان کیوں ہوئی انکی تکذیب کفر کیوں ہوئی۔
|
ولٰکن لعنۃ اﷲ علی الظّٰلمین الذین یکذبون المرسلین۔ |
لیکن اﷲ تعالٰی کی لعنت ہو ان ظالموں پر جو رسولوں کو جھٹلاتے ہیں۔(ت) |
ان عظیم وقائع نے معراجِ مبارك کا جسمانی ہونا بھی آفتاب سے زیادہ واضح کردیا اگر وہ کوئی روحانی سیر یا خواب تھا تواس پر تعجب کیا۔زید و عمر و خواب میں حرمین شریفین تك ہو آتے ہیں اور پھر صبح اپنے بستر پر ہیں۔رؤیا کے لفظ سے استدلال کرنا اور الاّفتنۃ للناس نہ دیکھنا صریح خطا ہے۔رؤیا بمعنی رویت آتا ہے۔اور فتنہ و آزمائش بیداری ہی میں ہے نہ کہ خواب میں ولہذا ارشاد ہوا۔
|
" سُبْحٰنَ الَّذِیۡۤ اَسْرٰی بِعَبْدِہٖ"[1]۔ |
پاکی ہے اُسے جو اپنے بندے کو لے گیا۔(ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔ |
(۷)رات تجلی لطفی ہے اور دن تجلی قہری،اور معراج کمالِ لطف ہے جس سے مافوق متصور نہیں،لہذا تجلی لطفی ہی کا وقت مناسب تھا۔معراج وصلِ محب و محبوب ہے اور وصال کے لیے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع