30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا کم عجیب ہے،اس لیے سبحن الذی ارشاد ہوا،کفار نے آسمان کہاں دیکھے،ان پر تشریف لے جانے کا اُن کے سامنے ذکر ایك ایسا دعوٰی ہوتا جس کی وہ جانچ نہ کرسکتے،بخلاف بیت المقدس جس میں ہر سال اُن کے دو۲ پھیرے ہوتے۔ " رِحْلَۃَ الشِّتَآءِ وَ الصَّیۡفِ ۚ﴿۲﴾"[1]۔(سردی اور گرمی میں کوچ کرنا۔ت) اور وہ خوب جانتے تھے کہ حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کبھی وہاں تشریف نہ لے گئے تو اس معجزے کی خوب جانچ کرسکتے تھے اور ان پر حجت الٰہی پوری قائم ہوسکتی تھی۔چنانچہ بحمداﷲ تعالٰی یہ ہی ہوا کہ جب حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کا بیت المقدس تشریف لے جانا اور شب ہی شب میں واپس آنا بیان فرمایا،ابوجہل لعین اپنے دل میں بہت خوش ہوا کہ اب ایك صریح حجت معاذ اﷲ ان کے غلط فرمانے کی مل گئی،ولہذا ملعون نے تکذیب ظاہر نہ کی بلکہ یہ عرض کی کہ آج ہی رات تشریف لے گئے؟ فرمایا:ہاں۔کہاں اور آج شب میں واپس آئے؟ فرمایا:ہاں کہاں:ارووں کے سامنے بھی ایسا ہی فرمادیجئے گا؟ فرمایا:ہاں اب اس نے قریش کو آؤاز دی اور وہ جمع ہوئے اور حضور سے پھر اس ارشاد کا اعادہ چاہا،حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے اعادہ فرمادیا۔کافر بغلیں بجاتی صدیق اکبر کے پاس حاضر ہوئے۔یہ گمان تھا کہ ایسی ناممکن بات سن کر وہ بھی معاذ اﷲ تصدیق سے پھر جائیں گے۔صدیق سے عرض کی۔آپ نے کچھ اور بھی سنا آپ کے یار فرماتے ہیں کہ میں آج کی رات بیت المقدس گیا اور شب ہی میں واپس ہوا۔صدیق اکبر نے فرمایا:کیا وہ ایسا فرماتے ہیں ؟ کہاں:ہاں وہ یہ حرم میں تشریف فرما ہیں۔صدیق نے فرمایا۔توواﷲ حق فرمایا یہ تو مکہ سے بیت المقدس تك کا فاصلہ ہے میں تو اس پر ان کی تصدیق کرتا ہوں کہ صبح شام آسمان کی خبر ان کے پاس آتی ہے،پھر کافروں نے حضور اقدس صلی اﷲ علیہ وسلم سے بیت المقدس کے نشان پوچھے،جانتے تھے کہ یہ تو کبھی تشریف لے گئے نہیں کیونکر بتائیں گے وہ جو کچھ پوچھتے گئے حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم ارشاد فرماتے گئے۔کافروں نے کہا:واﷲ ! نشان تو پورے صحیح ہیں۔پھر اپنے ایك قافلہ کا حال پوچھا جو بیت المقدس کو گیا ہوا تھا کہ وہ بھی راستہ میں حضور کو ملا تھا اور کہاں ملا تھا اور کیا حالت تھی کب تك آئے گا؟ حضور نے ارشاد فرمایا:فلاں منزل میں ہم کو ملا تھا اور یہ کہ اُتر کر ہم نے اس میں ایك پیالہ سے پانی پیا تھا اور اس میں ایك اونٹ بھاگا اور ایك شخص کا پاؤں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع