30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کی طرف عائد ہوگی۔شخصِ مذکور اگر واقعی یہ عقیدہ رکھتا ہے جو زبان سے کہا تو قرآن مجید کا مخالف ہے کماتلونا۔ورنہ ظاہر یہ ہے کہ وہ باطن میں فاتحہ اولیاء کرام کا منکر ہے۔اور براہِ تقیہ یہ عذر بے ہودہ گھڑتا ہے۔دونوں صورتوں میں یہ شخص مستحق عذاب ہے۔واﷲتعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۸۴: مسئولہ جناب حکیم مقیم الدین صاحب بہیڑی ضلع بریلی ۱۱رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دینِ و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ جب نیکی بدی میزان میں تولینگی تو نیکی کا پلہ بھاری ہوگا یا بدیوں کا،کیونکہ قاعدے سے جب نیکیاں زیادہ ہوں نیکیوں کا پلہ بھاری اور نیچا ہوگا اور بدیاں زیادہ ہوں تو بدی کا پلہ بھاری اور نیچا ہونا چاہیے،اور کتابوں میں لکھا بھی ایسا ہی ہے کہ جب نیکیاں زیادہ ہوں گی تو نیکوں کاپلہ بھاری ہوگا اور جھکے گا تو کیا واقعی نیکیاں زیادہ ہوں گی تو نیکیوں کا پلہ بھاری ہوگا۔مفصل بیان ہو کیونکہ نیکیاں بمقابَلہ گناہوں کے ہلکی ہونا چاہیں۔
الجواب:
وہ میزان یہاں کے ترازو کے خلاف ہے وہاں نییکوں کا پلہ اگر بھاری ہوگا تو اُوپر اُٹھے گا اور بدی کا پلہ نیچے بیٹھے گا۔قال اﷲ تعالٰی عزوجل:
|
" اِلَیۡہِ یَصْعَدُ الْکَلِمُ الطَّیِّبُ وَالْعَمَلُ الصّٰلِحُ یَرْفَعُہٗ ؕ"[1]۔ |
اسی کی طرف چڑھنا ہے پاکیزہ کلام اور جو نیك کام ہے وہ اس کو بُلند کرتا ہے۔(ت) |
مسئلہ ۱۸۵: از گونڈل علاقہ کا ٹھیاروار مسئولہ عبدالستار بن اسمعیل بروز سہ شنبہ تاریخ ۱۳ رجب المرجب ۱۳۳۴ھ
بعض متصوفہ زندیقہ جو زید،عمر،بکر یہ وہ سب کا خدا ہی خدا کہتے ہیں وہ یہ دلیل لاتے ہیں کہ اس وجہ سے منصور نے دعوٰی انا الحق کا کیا،بایزید بسطامی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اسی لیے سبحانی ما اعظم شانی(میں پاك ہوں اورکتنی عظیم میری شان ہے۔ت) فرمایا۔اور شمس تبریزی نے اسی وجہ سے قم باذنی(اٹھ میرے حکم سے۔ت)کہہ کر مردہ زندہ کیا۔اب عرض یہ ہے کہ کیا واقعی یہ کلمات اوپر کے بزرگوں سے صادر ہوئے ہیں؟ اور کیا اس صوفی زندیق کا یہ کہنا صحیح ہے؟ اور اگر ہے تو کیا یہ کلمات عندالشرع مردود ہیں یا نہیں؟ اور
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع