30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اس فقیر نے یوں بنایا تھا۔
نمبر ۵:پچھلے دور میں الخ یعنی جاہل اور نابینا اور ولدالزنا اور غلام،فاسق اور اہلِ بدعت کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے لیکن اگلے چار کے پیچھے مکروہِ تنزیہی او ر پچھلے دو کے پیچھے مکروہ تحریمی ہوتی ہے،جب کہ وہ فاسق معلن ہویعنی اس کا فسق ظاہر اور مشہور ہو،ورنہ اس کے پیچھے بھی مکروہ تنزیہی ہوگی۔اور جب کہ اس مبتدع کی بدعت و بدمذہبی حَدِ کفر تك نہ پہنچی ہو،ورنہ اس کے پیچھے باطل محض ہوگی،جیسے آج کل کے روافض ووہابی ونیچری وقادیانی و چکڑالوی کہ اپنے آپ کو اہلِ قرآن کہتے ہیں،اور غیر مقلد،حدیث میں فرمایا:
|
کل بدعۃ ضلالۃ |
یعنی ہر بدعت گمراہی ہے۔ |
اور اس سے مراد بدعت سیئہ ہے،پس جو شخص مرتکب ایسی بدعت کا ہو اس کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھنا چاہیے اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ادا ہوگی۔
واضح ہو کہ بدعتِ سیئہ دو قسم ہے:عملی اور اعتقادی،عملی جیسے عَلم،تعزیے اور قبروں کو سجدہ،اور اعتقادی جیسے تفضیلیہ و خوارج وجبریہ وقدریہ وغیرہ،یہ لوگ اہلِ بدعت ہیں ان کی صحبت سے بچنا چاہیے،غرضیکہ جن باتوں پر صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کا اجماع ہوچکا ہے ان کے خلاف عقیدہ رکھنا یہی بدعت ہے۔پھر ان میں جن کی بدعتِ حد کفر کو نہ پہنچی ہو جیسے تفضیلیہ،اس کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمی ہے ورنہ باطل محض ۱۲ منہ۔
اب اشاعتِ ثانیہ میں جس طرح کرلیا گیا ہے وہ پیش نظر ہے۔اسی طرح بیشمار تبدیلات ہیں،اشعار میں بھی پھر اسی قسم کی اغلاط نے عود کیا ہے۔صفحہ ۱۲۳ کے بعد کی اصلاحات یہاں نہ رہیں اگر وہ بھی ہوں اور یہ کتاب مطابق اصلاِح فقیر کوئی صاحب چھاپیں تو کتابِ ثالث ہوگی اور بفضلہ تعالٰی اغلاطِ شرعیہ و شعریہ سے پاک۔
حضرت سید ظہور حیدر میاں صاحب رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ کی تاریخِ وصال جبھی خیال میں آگئی تھی معروض ہے:ع
نحو لقاء جدہ اُم ظہور حیدر
حسن الی الجنان اذ ثمّ ظہور حیدر
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع