30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
زیادہ ثبوت تھا وہ بھی اکثر حذف ہوگئے،اب حضرت اپنی مسئول عبارت ملاحظہ فرمائیں،اشاعتِ اولٰی میں اس حاشیہ کی عبارت یہ تھی۔
ص۵ ہوتی ہے مگر وہ الخ یعنی فاسق فاجر اور نابینا اور اہلِ بدعت اور جاہل کے پیچھے نماز مکروہ ہوتی ہے ولیکن بعض کے پیچھے مکروہ تحریمہ اور بعض کے پیچھے مکروہ تحریمہ اور بعض کے پیچھے مکروہ تنزیہی یعنی اہل بدعت اور وہ جاہل جو قراء ت توڑے اور ادھ کٹ حرفوں سے پڑھے،ان کے پیچھے نماز مکروہِ تحریمہ ہوتی ہےاور نابینا و فاسق کے پیچھے اگر وہ اہل بدعت اور جاہل نہ ہو تو نماز مکروہ تنزیہی ہوتی ہے،اہل بدعت کے پیچھے اس لیے کہ حضرت محمد صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا:
|
من احدث فی امرنا ھٰذا الیس منہ فہورد [1]۔ |
یعنی جس شخص نے نئی بات نکالی اپنی طرف سے بیچ دین میں ہمارے کے جو کہ کتاب و سنت سے ثابت نہیں ہے۔(مراد اس سے بدعت سیئہ ہے)پس وہ شخص یعنی بدعتی مردود ہے۔ |
اورایك جگہ فرمایا:
|
کل بدعۃ ضلالۃ [2]۔ |
یعنی ہر بدعت گمراہی کا راستہ ہے۔ |
پس جو شخص مرتکب ایسی بدعت کا ہو اس کے پیچھے نماز ہر گز نہ پڑھنا چاہیے،اس کے پیچھے نماز مکروہ تحریمہ ہوگی۔
واضح ہو کہ قبروں کو سجدہ کرنے والے اور اہل قبور سے منت ماننے والے اور فرقہائے باطلہ مثل خوارج وجبریہ و قدریہ کے،اور وہ اَن پڑھ جاہل جو کہ کتاب و سنت سے بالکل ناواقف و بے بہرہ ہیں اور پھر ترك تقلید کرتے ہیں،یہ لوگ اہلِ بدعت ہیں انکی صحبت سے بچنا چاہیے،غرضیکہ جن باتوں پر صحابہ و تابعین و آئمہ مجتہدین رضی اﷲ تعالٰی عنہم اجمعین کا اجماع ہوچکا ہے انکے خلاف عقیدہ رکھنا یہی بدعت ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع