30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وہ نہیں سُنتے تو کیوں اُن پر سلام کیا شریعت چاہے پتھر سے کلام
عام کے یہ دھڑ نہیں سُنتے ضرور ہیں یہی موتی یہی من فی القبور
یہ بھی جب حق چاہے سُنتے ہیں ندا کیونکہ انّ اﷲ یسمع من یشاء [1]
ملاحظہ ہو طبعِ دوم میں ان کی کیا تبدیلی ہوئی ہے،سب سے زیادہ سخت افسوس مجھے ان اشعار کا ہوا کہ نعت شریف میں میں نے اضافہ کیے تھے وہ یہ ہیں۔
حضرتِ علّامِ کُل بے شك و ریب بخشا ہے انبیاء کو علم غیب
ان کو کرتا ہے مسلط غیب پر اوروں کو ان کے توسط سے خبر
ان پہ کردیتا ہے روشن لاکلام ختم تك دنیا و مافیہا تمام
مصطفی کو جس سے بخشا ہے سِوا مایکون ماکان جس کا جز ہوا
علم مانے شہ سے شیطاں کا وسیع کس سے جز شیطاں ہو یہ کفر شنیع
علمِ غیب اُن کا سا جو ثابت کرے بچے پاگل جانور کے واسطے
وہ شقی مرتد عدو اﷲ ہے کافروں سے بھی سوا گمراہ ہے
جوکریں تنقیصِ شانِ شاہ دیں لعنۃ اﷲ علیہم اجمعین
مصطفٰی ہی ہیں،قیامت میں شفیع ہے انہیں کا حصہ یہ شان رفیع
فاتحِ باب شفاعت ہیں وہی کہفِ ارباب شفاعت ہیں وہی
جو کبائر والے بے توبہ مریں وہ کریم ان کی شفاعت بھی کریں
جو کہے اس دن کے وہ شافع نہیں وہ ہے گمراہ و خبیث اے اہلِ دیں
فضلہ خو رانِ سگانِ اعتزال بکتے ہیں ایسے بداقوال ضلال
اُن کی گمراہی سے تم مُنہ موڑنا اپنے مولا کا نہ دامن چھوڑنا
وہ نہ ہوں شافع ہمارے گر وہاں کہیے ہم سوں کا ٹھکانہ پھر کہاں[2]
ملاحظہ ہو کہ اس میں کتنا اور کیا باقی رہا،ان تمام اضافات پر حواشی تھے جن میں ہر لفظ کا آفتاب سے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع