30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اس میں جھوٹا ہوں تو خدا مجھ کو دنیا سے کافر کرکے نکالے،اور جو اس کی تصدیق کرے گا وہ دوزخ کی آگ سے نجات پائے گا۔صلی اﷲ علٰی سیدنا محمد و علٰی آلہ واصحابہ وسلم۔
الجواب:
جن باتوں کی اس میں ہدایت ہے وہ باتیں اچھی ہیں،انکے احکام قرآن و حدیث میں موجود ہیں،ان پر عمل ضرور ہے۔باقی یہ تمہید جو اشتہار میں لکھی گئی ہے بے اصل ہے۔بارہا اس قسم کے اشتہار شائع ہوئے ہیں،کسی میں خادمِ روضہ انور کا نام صالح ہے کسی میں شیخ احمد ہے۔اور ایسے ہی بے باکی کے کلمات لکھے ہیں کہ اتنے مسلمان مرے ان مین سے صرف اتنے ایمان کے ساتھ گئے اور باقی معاذ اﷲ بے ایمان مرے۔اس اشتہار میں تو اتنی رعایت ہے کہ نوے ہزار اموات میں صرف بیس ہزار معاذ اﷲ کافر رکھے ہیں۔اور اشتہار وں میں تو گنتی کے مسلمان رکھے۔رب عزوجل سے جوحضور سید عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کی عرض نسبت کی ہے،کس قدر بے معنی ہے۔نسأل اﷲ العفووالعافیۃ ہم اﷲ تعالٰی سے معافی اور سلامتی کے طلبگار ہیں،ت) واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ: ۱۷ ربیع الثانی ۱۳۳۲ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیانِ شرع متین اس مسئلہ میں کہ ایك جاہل نے کوئی گناہ کیا جس کو قطعی نہ جانتا تھا کہ حلال ہے یا حرام۔اور اسی یا دوسرے گناہ کو عالم نے کیا،تو ان دونوں کے لیے از جانبِ شریعت حکم مختلف ہے،یا نہیں؟ اور اگر مختلف ہے تو کیوں؟ اور اگر مختلف نہیں ہے تو کیوں؟ بیّنوا توجروا(بیان فرمائیے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
حدیث میں ہے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فرماتے ہیں:
|
ذنب العالم ذنب واحد وذنب الجاھل ذنبان [1]۔قیل ولم یارسول اﷲ،قال العالم یعذب علٰی رکوبہ الذنب و الجاھل یعذب علٰی رکوبہ الذنب وترك التعلم [2]۔ |
عالم کا گناہ ایك گناہ ہے اور جاہل کا گناہ دوہرا گناہ،عرض کی:یارسول اﷲ!یہ کس لیے ؟ فرمایا:عالم پر گناہ کرنے کا عذاب ہے اور جاہل پر ایك عذاب گناہ کرنے کا ہے اور ایك علم نہ سیکھنے کا۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع