30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(۵)بہشتی زیور کا حال بالاجمال اُوپر گزرا بے شك اس میں بہت مسائل باطل و ساختہ ہیں وہ کسی طرح اس قابل نہیں کہ کوئی مسلمان اسے دیکھے یا اپنے گھر میں رکھے مگر عالم جید بغرض رَدّوابطال،مفتی صاحب کا اس پر اعتراض بجا ہے اور عوام اس کے مسائل سے جتنی بھی نفرت کریں ان کے حق میں مصلحت دینیہ ہے۔قال صلی الله تعالٰی علیہ وسلم:
|
ایّاکم وایّاھم لایضلونکم و لایفتنو نکم۔[1] |
اُن سے دور بھاگو اور اپنے سے دور رکھو کہیں وہ تمہیں گمراہ نہ کردیں کہیں وہ تمہیں فتنہ میں نہ ڈالیں۔ |
علمائے کرام نے وصیت فرمائی کہ جاہل کے لکھے ہوئے مسئلہ پر تصدیق نہ کرو اگرچہ مسئلہ فی نفسہا صحیح ہو کہ اس کی تصدیق نگاہِ عوام میں وقعت کاتب کی موجب ہوگی۔وہ یہ سمجھ لیں گے کہ یہ بھی کوئی مفتی ہے،پھر اور جو اپنی جہالت سے غلط فتوٰی لکھے گا اس پر بھی اعتبار کریں گے۔جب جاہل کے لیے یہ حکم ہے تو چہ جائے مبتدی چہ جائے مرتد واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۸: ازجے پور راجپوتانہ،بازار ہوا محل،مرسلہ محمد یوسف مدرس مدرسہ فیض محمدی ۲ ربیع الاول ۱۳۳۷ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ درمختار و شرح وقایہ و ہدایہ وفتاوٰی عالمگیر ی و کنزالدقائق و قدوری ومنیۃ المصلی وغیرہ کتب فقہ میں وہ مسائل جو بلفظ قال ابوحنیفہ و عند ابی حنفیہ(ابوحنیفہ نے فرمایا اور ابوحنیفہ کے نزدیك یوں ہے، ت)منقول ہیں کیا اُن کی اسناد بقاعدہ محدثین صاحب کتاب سے امام ابوحنفیہ رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ تك پہنچتی ہیں تو ایك دو مسئلہ کی سند بطور نظیر کے ارقام فرمادیں۔
الجواب:
تمام مسائل کہ صاحبِ مذہب رضی الله تعالٰی عنہ کی طرف بلفظ قال وعند نسبت کئے جاتے ہیں کتب ظاہر الروایہ کے مسئلے ہیں اور اُن تك اسانید متصلہ موجود ہر مسئلہ کے لیے جدا سند کی حاجت نہیں جس طرح صحیح بخاری تك ہم اسانید متصلہ رکھتے ہیں،صحیح کی تمام حدیثیں ہمارے پاس انہیں سندوں سے ہیں ہر حدیث میں جدید سند کی ضرورت نہیں۔صاحبِ درمختار رضی الله تعالٰی عنہ درمختار میں فرماتے ہیں:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع