30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اعتراض کرتے ہیں ہم نے ان کی تحقیق کتب فقہ میں کی تو شرح و قایہ،درمختار،کنزالدقائق میں پائے جاتے ہیں ایك مفتی صاحب کہتے ہیں کہ مسائل فرضی ہیں ان کا کہا کیونکر صحیح ہے؟
الجواب:
(۱)ایسے سوال میں قرآن عظیم کا شامل کرنا سُوء ادب ہے الله ورسول جل وعلا وصلی الله تعالٰی علیہ وسلم نے ہماری ہرحاجت کے متعلق حق و باطل،نفع و ضرر پر ہمیں مطلع فرمایا۔جس طرح ہمیں نماز روزہ سکھایا یونہی جماع و استنجاء تعلیم فرمایا مگر امورِ شرم کا ذکر طرز بیان مختلف ہوجانے سے مختلف ہوجاتا ہے۔ایك ہی مسئلہ اگر حیاء کے پیرایہ میں بیان کیا جائے تو کنواری لڑکی کو اس کی تعلیم ہوسکتی ہے اور بے حیائی کے طور پر ہو تو کوئی مہذب آدمی مردوں کے سامنے بھی بیان نہیں کرسکتا۔خصوصًا ترجمہ کہ وہ گویا متکلم کی طرف سے اس کی زبان کا بیان ہوتا ہے،تو نہایت ضرور ہے کہ اس کی عظمت و شان ملحوظ رہے،وہ لفظ لکھے جائیں جو اس کے کہنے کے ہوں،بعض گمراہوں نے ترجمہ قرآن مجید میں اس کا لحاظ نہ رکھا یہ سخت سوء ادب ہے۔غرض ایك ہی بات اختلافِ طرز بیان سے تعظیم سے توہین تك بدل جاتی ہے جیسے اوش فرمائیے،تناول فرمائیے نوشِ جان فرمایئے۔کھاؤ،نگلو، تھورو،زہر مار کرو اور تعظیم و توہین میں کس قدر مختلف ہیں تو صرف اتنا عذر کہ ہم نے ترجمہ کیا ہے کافی نہیں ہوسکتا جب کہ طرزِ بیان بے ہودہ ہو۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۲)صحیح مقابل فرضی کے لیے تو اس قدر بس ہے کہ وہ کتاب جس کی طرف نسبت کی جائے اس کی ہو اگرچہ کتنے ہی اغلاط پر مشتمل ہو،جن کتابوں کے نام سائل نے لیے ان میں کوئی فرضی نہیں،کنزسے قاضیخاں تك جتنے نام مذکور ہوئے یہ سب صحیح بمعنی معتمد بھی ہیں،مگر اعتماد کیا حاصل اس کی تفصیل ہم نے اپنے فتاوٰی میں ذکر کی ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۳)اگر کتبِ مذکورہ بالا سے صحیح ترجمہ کیا جائے اورطرزِ بیان بھی مقبول و محمود ہو اور اپنی طرف سے کچھ اضافہ نہ ہو تو وہ گویا انہیں کتابوں کا وجود ثانی ہوگا یقین تو اعتقادیات میں درکار ہوتا ہے اور قابلِ عمل وہ مسئلہ جو مفتی بہ ہو۔مالا بد میں بھی زیادات ہیں اور مفتاح الجنۃ تو وہابیہ کے ہاتھ میں رہی جس میں بہت کچھ اصلاح ہوئی اور بہشتی زیور اغلاط و ضلالت و بطالت وجہالت کا مجموعہ ہے،واﷲ تعالٰی اعلم۔
(۴)کنز سے قاضیخاں تك جتنی کتابوں کے نام لیے ان کی نسبت کوئی حنفی نہیں کہتا کہ ان کے مسائل حنفیہ کے خلاف ہیں اور فرضی ہیں،تو سوال ہی فرضی ہے،مالا بد و مفتاح الجنۃ کے بعض زیادات و الحاقات کو اگر کسی نے ایساکہا تو بیجا نہ کہا اور بہشتی زیور لا فی العیرولا فی النفیر(نہ قافلے میں نہ لشکر میں،یعنی کسی شمار میں نہیں،ت)واﷲ تعالٰی اعلم۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع