30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کا جو خط فقیر کے نام آیا اس میں وہ بھی تصریح کرتے ہیں کہ ہم اس وقت تك بدستور صلح پر قائم ہیں۔یوں ہی اس سے بھی تازہ تر عنایت نامہ جناب شاہ صاحب وجیہی علوی میں ہے،پھر فقیر نہیں کہہ سکتا کہ اس فتوے کے چھاپنے کی کیا ضرورت ہوئی اور اس سے کیا نفع ہوسکتا ہے،اس میں تو مولوی علاؤ الدین صاحب پر حکم سخت ہونا اس شرط سے مشروط تھا کہ وہ بعد کشف شبہہ تکفیر مسلم کی طرف معاذ اﷲ پھر عود کریں،جب یہ شرط نہیں تو ہر گز اس فتوے سے نہ مولوی علاؤ الدین صاحب کو ضرر نہ چھانپے والے کو نفع،اور خدانخواستہ شرط متحقق ہوئی تو اس کا حال اﷲ جانتا ہے۔بالجملہ یہ امر دین ہے اور دین میں کسی کی رعایت نہیں۔دونوں صاحب میرے دوست ہیں اور دونوں صاحب ذی علم اور ایك استاد کے شاگرد ہیں،میں امید کرتا ہوں کہ بدستور صلح پر قائم ہوں گے جیسا کہ دونوں صاحبوں کی تحریر سے مجھے معلوم ہوا،ورنہ جس طرف سے نقض عہد واقع ہو وہ ضرور اپنے حکمِ شرعی کا مستحق ہوگا کائنا من کان(جو کوئی بھی،ت)فریقین اس آیہ کریم کو پیش نظر رکھیں۔
|
" وَ قُلۡ لِّعِبَادِیۡ یَقُوۡلُوا الَّتِیۡ ہِیَ اَحْسَنُ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ یَنۡزَغُ بَیۡنَہُمْ ؕ اِنَّ الشَّیۡطٰنَ کَانَ لِلۡاِنْسٰنِ عَدُوًّا مُّبِیۡنًا ﴿۵۳﴾"[1]۔واﷲ تعالٰی اعلم ۔ |
اور میرے بندوں سے فرمادو وہ بات کہیں جو سب سے اچھی ہو،بے شك شیطان ان کے درمیان فساد ڈال دیتا ہے،بے شك شیطان آدمی کا کھُلا دشمن ہے۔واﷲ تعالٰی اعلم۔(ت) |
مسئلہ ۱۶۹:کیا فرماتے ہیں علمائے دین و مفتیان شرع متین اس مسئلہ میں کہ زید بیان کرتا ہے کہ فخر عالم سلطان الانبیاء صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے نو رِ مبارك کو اﷲ تعالٰی نے اپنے نورِ ذاتی سے پیدا کیا،اور وہ نورِ مقدس قدیم ہے۔اوربکر بیان کرتا ہے اپنے نورِ مبارك سے مراد نورِ قدرت اس کی کا ہے اور وہ نور حادث ہے۔
اور مسئلہ دیگر یہ کہ زید بیان کرتا ہے کہ " ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰی ۙ﴿۸﴾ فَکَانَ قَابَ قَوْسَیۡنِ اَوْ اَدْنٰی ۚ﴿۹﴾"[2]۔(پھر وہ جلوہ نزدیك ہوا پھر خوب اتر آیا اور اس جلوے اور محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم۔ت)سے مراد قرب اﷲ تعالٰی کا ہے کہ معراج شریف میں سرورِ عالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اتنے قریب ہوئے اﷲ سے کہ درمیان فرق دو کمان کا رہ گیا۔اور اکثر یہ بیان مولود شریف میں ذکر ہوتا ہے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع