30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دادی بی مورخہ ۲۵جمادی الثانی ۱۳۳۰ھ چہار شنبہ۔
الجواب:
فقیر غفرلہ المولٰی القدیرجب جمادی الاولٰی ۱۳۲۴ھ میں بعدِ سفر مدینہ طیبہ کراچی آیا اور وہاں سے احباب احمد آباد لانے پر مصر ہوئے۔یہاں میرے معظم دوست حامیِ سنت ماحی بدعتِ مولانا مولوی نذیر احمد صاحب مرحوم و مغفور کے دو معزز شاگردوں مولوی عبدالرحیم صاحب و مولوی علاؤ الدین صاحب سلہما اﷲ تعالٰی میں نزاع تھی،دو فریق ہورہے تھے۔اور اس سے پہلے مولوی علاؤ الدین صاحب غریب خانہ پر تشریف لائے تھے اور ایك رسالہ پیش کیا جس میں مولوی عبدالرحیم صاحب پر سخت الزام قائم کرنے چاہے حتی کہ نوبت بہ تکفیر پہنچائی تھی،فقیر نے انہیں سمجھایا اور اس رسالہ کی اشاعت سے باز رکھا اور ان الزامات کی غلطی پر دوستانہ متنبہ کیا۔الحمدﷲ مولوی علاؤ الدین صاحب نے گزارشِ فقیر کو قبول کیا مگر باہم فریق بندی اس وقت تك تھی کہ فقیر حج سے واپس آیا اس وقت مولوی عبدالرحیم صاحب نے یہ سوال پیش کیا جس کا میں نے وہ جواب لکھا،وہ جواب میرا ہی ہے مگر اس وقت کی حالت سے متعلق تھا۔میں نے اس جواب ہی میں بتادیا تھا کہ مولوی علاؤ الدین صاحب نے مولوی عبدالرحیم صاحب کی تکفیر عنادًا نہ کی تھی بلکہ مسئلہ ان کی سمجھ میں یوں ہی آیا تھا جس سے انہوں نے بعد تفہیم فقیر رجوع کی تو ان پر کوئی حکم سخت نہیں،ہاں اگر وہ بعد اس کے کہ حق سمجھ لیے پھر بلاوجہ شرعی تکفیر کی طرف رجوع کریں تو اُس وقت حکم سخت ہونا لازم ہے۔اس کے بعد وہیں ایام اقامت فقیر میں فریقین فیصلہ فقیر پر راضی ہوئے اور بحمداﷲ تعالٰی باہم صلح کرادی گئی،میں نے اس وقت تك صلح شکن نہ پایا بلکہ قریب زمانہ میں جب کہ بعض فساد پسندوں نے تکفیر مولوی عبدالرحیم صاحب کا باطل و بے معنی غلغلہ پھر اٹھایا اور پرانا مہمل اشتہار مولوی قندھاری نے دوبارہ کسی شخص وزیر الدین کے نام سے چھاپا، زاور مولوی عبدالرحیم صاحب کو دفع فتنہ کے لیے یہاں کے فتوٰی کی ضرورت ہوئی ہے اور اس پر ان سے واقعات پوچھے گئے جس کا مفصل جواب انہوں نے ہفتم ذی الحجۃ ۱۳۲۹ھ کو بھیجا،اُس خط میں بھی یہ لفظ موجود ہیں "احمد آباد میں آپ کے قدم مبارك کراچی سے رونق افروز ہوئے تھے اور آپ نے صلح بندی کی اور مولوی علاؤ الدین صاحب کی کرائی تھی،جب سے اب تك بحمداﷲ تعالٰی صلح ہے وہ میرے موافق ہیں انتہی بلفظہ"۔اس کے بعد میرا یہی فتوٰی جواب شیر محمد صاحب نے چھاپا مولوی عبدالرحیم نے اس کی نقل مجھے بھیجی تھی اور اس میں سے اُن تمام سطروں پر کہ مولوی علاوہ الدین صاحب کے متعلق تھیں سُرخی سے قلم پھیر دیا کہ اب اُن کی ضرورت نہیں۔مولوی علاؤ الدین صاحب
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع