30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
کیا سند ہے تمہارے سیّد ہونے کی۔رات کو زیارتِ اقدس سے مشرف ہوا کہ معرکہ حشر ہے یہ شفاعت خواہ ہوا،اعراض فرمایا:اس نے عرض کی:میں بھی حضور کا امتی ہوں۔فرمایا:کیاسند ہے تیرے امتی ہونے کی،میں مولوی عبدالرحیم صاحب کو اس بارے میں لکھوں گا۔اور اگر وہ ایسا کرتے ہیں تو منع کروں گا،امید ہے کہ وہ میری گزارش قبول کریں گے۔آپ فقیر کی اسی تحریر کو فتوٰی تصوّر فرمائیں۔ فقیراحمد رضا غفرلہ از بریلی ۲۵ ذوالحجہ ۱۳۲۹ھ
مسئلہ ۱۶۸:
بسم اﷲ الرحمن الرحیم ط
نحمدہ،ونصلی علی رسول الرؤف الرحیم ط
امابعد !سوال ازفاضلِ اجل عالمِ بے بدل حضرت مولانا مولوی محمد احمد رضا خان صاحب ساکن بریلی عم فیضہ الصوری والمعنوی۔
محذومی مکرمی معظمی مفخمی حضرت حامی دین متین مولانا مولوی محمد احمد رضا خان صاحب دام محبتکم،بعد السلام علیکم ورحمۃ اﷲ وبرکاتہ واضح رائے عالی ہو کہ ہمارے یہاں شہر احمد آباد میں ایك رسالہ آٹھ صفحہ کا مطبع حمیدی پریس واقع احمد آباد بازار کا لوپور میں چھپ کر شائع ہوا ہے۔اس کے مشتہر مولوی شیر محمد بن شاہ محمد ساکن احمد آباد محلہ مرزا پور متصل قصابانِ گاؤ ہیں۔اور اس میں رسالہ کی اشاعت کی تاریخ یہ لکھی ہے" مورخہ ۲ جمادی الاخری ۱۳۳۰ ھ روز وشنبہ" اور اس رسالہ کے صفحہ ۵ سے صفحہ ۷ تك ایك فتوٰی ہے اور وہ فتوٰی تاریخ ۱۱ جمادی الاولٰی یوم الاربعا ۱۳۲۴ھ کو لکھا گیا ہے۔
جناب مولانا صاحب ! دست بستہ خدمت میں عرض یہ ہے کہ چھپا ہوا فتوٰی آپ کی خدمت میں رجسٹرڈ حاضر کیا جاتا ہے۔یہ فتوٰی آپ نے تحریر فرمایا ہے یا نہیں؟ یہاں بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ مولانا احمد رضا خان صاحب نے یہ فتوٰی نہیں لکھا۔ یہ فتوٰی مولانا صاحب کی طرف منسوب کردیا ہے۔مولانا اس فتوٰی کے لکھنے سے انکار فرماتے ہیں۔یہ فرمانا ان حضرات کا صحیح ہے یا غلط ہے؟ اور یہ فتوٰی آپ نے چھ سال پہلے لکھا ہے یا نہیں،اور ہم نے آپ کا قلمی مہر کیا ہوا فتوٰی بھی مولوی شیر محمد صاحب کے پاس دیکھا ہے اس کو ہم سچا سمجھیں یا نہیں؟آپ ہم کو سمجھا دیجئے رب العالمین آپ کو اجرِ عظیم و ثواب ِ جزیل عطا فرمائے گا۔
رقیمہ آپ کا خادم مہرباز خاں بن محمد خاں ساکن احمد آباد محلہ جمال پور کھاڑیہ متصل مسجد
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع