30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
بگرامی ملاحظہ مکرم ذی المجدوالکرم جناب مولانا مولوی سید قاضی احمد علی صاحب مدنی دام مجد ہم۔بعد ادائے ہدیہ سنّت ملتمس،نوازش نامہ تشریف لایا،ممنون یاد آوری فرمایا،مولوی عبدالرحیم صاحب نے صرف ایك شخص کی نسبت مجھ سے دوبار فتوٰی لیا،ایك اس بارہ میں کہ اس نے حضرات ائمہ اطہار کو نبی و رسول بتایا،اس کے بارے میں میں نے "جزاء اﷲ عدوہ" لکھی جس کو طبع ہوئے بارہ۱۲ برس گزرے۔دوسرا اس بارے میں کہ وہ معوذتین کو قرآن نہیں مانتا اس پر میرا فتوٰی نذیر المنافقین میں چھپا جسے سال ہوئے۔ان کے سوا میں نے ان کوکوئی فتوٰی کسی کے کفر پر لکھ کر نہ بھیجا۔ہاں ایك شخص کے کچھ اشعار کی نسبت سوال تھا جس میں اس نے اپنے پیر کی تعریف میں بہت غلو وافراط کیا۔اس پر میں نے صریح کفر ہونے کا فتوٰی نہ دیا بلکہ اس میں تاویلات کی طرف اشارہ کیا۔اور یہ دو نام جو آپ نے تحریر فرمائے ان کی بابت مجھے اصلًا یاد نہیں کہ کسی امر کا کوئی فتوٰی کیسا ہی لکھا گیا ہو۔ہاں زید و عمر کرکے کوئی سوال انہوں نے بھیجا اور میں نے جواب لکھا ہو تو معلوم نہیں،مگر کفر کا فتوٰی صرف انہیں باتوں پر لکھا نہیں بلکہ چھاپ کر بھیجا ہے جسے ۲ اور ۷ برس ہوئے،اور اشعار والا فتوٰی بھی غالبًا وہیں طبع ہوگیا ہے۔
یہ فقیر ذلیل بحمدہ تعالٰی حضرات ساداتِ کرام کا ادنٰی غلام وخاکپاہے۔ان کی محبت و عظمت ذریعہ نجات وشفاعت جانتا ہے،اپنی کتابوں میں چھاپ چکا ہے کہ سیّد اگر بدمذہب بھی ہوجائے تو اس کی تعظیم نہیں جاتی جب تك بدمذہب حدِ کفر تك نہ پہنچے،ہاں بعدِکفر سیادت ہی نہیں رہتی،پھر اس کی تعظیم حرام ہوجاتی ہے۔اور یہ بھی فقیر بار ہا فتوٰی دے چکا ہے کہ کسی کو سید سمجھنے اور اس کی تعظیم کرنے کے لیے ہمیں اپنے ذاتی علم سے اسے سید جاننا ضروری نہیں،جو لوگ سید کہلائے جاتے ہیں ہم ان کی تعظیم کریں گے،ہمیں تحقیقات کی حاجت نہیں،نہ سیادت کی سند مانگنے کا ہم کو حکم دیا گیا ہے۔اور خوا ہی نخواہی سند دکھانے پر مجبور کرنا اور نہ دکھائیں تو بُرا کہنا مطعون کرنا ہرگز جائے نہیں۔" الناس امنأ علی انسابھم(لوگ اپنے نسب پرامین ہیں)،ہاں جس کی نسبت ہمیں خوب تحقیق معلوم ہوکہ یہ سیّد نہیں اور وہ سید بنے اس کی ہم تعظیم نہ کریں گے نہ اسے سید کہیں گے اور مناسب ہوگا کہ ناواقفوں کو اس کے فریب سے مطلع کردیا جائے۔میرے خیال میں ایك حکایت ہے جس پر میرا عمل ہے کہ ایك شخص کسی سیّد سے الجھا،انہوں نے فرمایا میں سیّد ہوں کہا۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع