30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ان لکل نبی دعوۃ قددعا بہا فی امتہ واستجیب لہ[1]۔ وھذااللفظ الانس ولفظ ابی سعید لیس من نبی الا وقد اُعطی دعوۃ فتعجّلہا[2]۔(ولفظ ابن عباس)لم یبق نبی الا اُعطی سؤلہ[3]۔رجعنا الٰی لفظ انس والفاظ الباقین کمثلہ معنیً قال وانی اختبات دعوتی شفاعۃ لِاُمتی یوم القٰیمۃ [4]۔(زاد موسٰی)جعلتہا لمن مات من امتی لایشرك باﷲ شیئا [5]۔ |
ہر نبی کے لیے ایك خاص دعا ہے جو وہ اپنی امت کے بارے میں کرچکا ہے اور وہ قبول ہوئی ہے،یہ حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لفظ ہیں،اور حضرت ابوسعید رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے لفظ یوں ہیں کہ نہیں ہے کوئی نبی مگر یہ کہ اُسے ایك خاص دعا عطا ہوئی جسے اس نے دنیا میں مانگ لیا۔ابن عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہما کے لفظ ہیں کہ کوئی نبی نہ بچا جس کو خاص دُعا عطا نہ ہوئی ہو،ہم حضرت انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے الفاظ کی طرف رجوع کرتے ہیں،باقی راویوں کے الفاظ معنی کے اعتبار سے اُن ہی کی مثل ہیں۔سرکار دوعالم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا۔میں نے اپنی دعا کو قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھا ہے۔" ابو موسٰی نے اضافہ کیا کہ میں ہر اُس امتی کے لیے شفاعت کروں گا جو اس حال پر مرا کہ اﷲ تعالٰی کے ساتھ کسی کو شریك نہیں ٹھہراتا تھا۔(ت) |
یعنی انبیاء علیہم الصلٰوۃ والسلام کی اگرچہ ہزاروں دُعائیں قبول ہوتی ہیں مگر ایك دُعا انہیں خاص جناب باری تبارك و تعالٰی سے ملتی ہے کہ جو چاہے مانگ لو بے شك دیا جائے گا تمام انبیاء آدم سے عیسٰی تك(علیہم الصلوۃ والسلام)سب اپنی اپنی وہ دُعا دنیا میں کرچکے اور میں نے آخرت کے لیے اٹھا رکھی،
[1] صحیح بخاری کتاب الدعوات باب قول اﷲ تعالٰی ادعونی استجب لکم قدیمی کتب خانہ کراچی ۲ /۹۳۲،صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸
[2] مسند احمد بن حنبل عن ابی سعید الخذری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰
[3] السنن الکبری کتاب الصلوۃ باب اینما ادرکتك الصلوۃ فصل الخ دارصادر بیروت ۲ /۴۳۳
[4] صحیح مسلم کتاب الایمان باب اثبات الشفاعۃ قدیمی کتب خانہ کراچی ۱ /۱۱۳،مسند احمد بن حنبل عن انس رضی اﷲ تعالٰی عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۳ /۲۰۸
[5] مسند احمد بن حنبل عن ابی موسٰی الاشعری رضی اﷲ عنہ المکتب الاسلامی بیروت ۴ /۴۱۶
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع