30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سیدی احمد زرّوق مغربی قدس سرہ استاذ شمس الدین لقانی و امام شہاب الدین قسطلانی شارح صحیح بخاری کی مدحِ عظیم لکھی کہ وہ جناب ابدالِ سبعہ ومحققین صوفیہ سے ہیں،شریعت و حقیقت کے جامع،باوصفُ علوّباطن،ان کی تصانیف علومِ ظاہری میں بھی نافع و مفید وبکثرت ہیں،اکابر علماء فخر کرتے ہیں کہ ہم ایسے جلیل القدر عالم و عارف کے شاگرد ہیں،یہاں تك کہ لکھا: "بالجملہ مردے جلیل القدر ے ست کہ مرتبہ کمالِ اُوفوق الذکراست "۔
خلاصہ یہ کہ وہ بڑی قدرو منزلت والے بزرگ ہیں کہ ان کا مقام و مرتبہ ذکر سے ماوراء ہے۔(ت)
پھر اس جناب جلالت مآب کے کلامِ سے دو بیتیں نقل کیں کہ فرماتے ہیں ؎
انا لمریدی جامع لشتات اذا ماسطاجورُ الزمان بنکبتہ
وان کنت فی ضَیقٍ وکربٍ ووحشۃٍ فنادبیازرّوق اٰت بسُرعتہ[1]
یعنی میں اپنے مرید کی پریشانیوں میں جمعیت بخشنے والا ہوں جب ستمِ زمانہ اپنی نحوست سے اس پر تعدی کرے اور توتنگی و تکلیف و وحشت میں ہو تو یوں نداء کر:یازروق میں فورًا آ موجود ہوں گا۔
علامہ زیادی،پھر علامہ اجہوری صاحبِ تصانیفِ کثیرہ مشہورہ پھر علامہ داؤدی محشی شرح منہج،پھر علامہ شامی صاحبِ ردالمحتار حاشیہ درمختار گم شدہ چیز ملنے کے لیے فرماتے ہیں کہ:بُلندی پر جا کر حضرت سیّدی احمد بن علوان یمنی قدس سرہ،کے لیے فاتحہ پڑھے پھر انہیں نداء کرے کہ یا سیدی احمد یا ابن علوان[2]۔
شامی مشہور و معروف کتاب ہے،فقیر نے اس کے حاشیہ کی یہ عبارت اپنے رسالہ حیاۃ الموات کے ہامش تکملہ پر ذکر کی۔
غرض یہ صحابہ کرام سے اس وقت تك کے اس قدر ائمہ اولیاء و علماء ہیں جن کے اقولِ فقیر نے ایك ساعتِ قلیلہ میں جمع کیے۔اب مشرك کہنے والوں سے صاف صاف پوچھنا چاہیے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع