30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اسی میں ہے:
ولیِ ممدوح قدس سرّہ کی زوجہ مقدسہ بیماری سے قریبِ مرگ ہوئیں تو وہ یوں نداکرتی تھیں:"یاسیدی احمد یا بدویُّ خاطرك معی"اے میرے سردار اے احمد بدوی ! حضرت کی توجہ میرے ساتھ ہے۔ایك دن حضرت سیدی احمد کبیر بدوی رضی اﷲ تعالٰی عنہ کو خواب میں دیکھا کہ فرماتے ہیں،کب تك مجھے پکارے گی اور مجھ سے فریاد کرے گی تو جانتی نہیں کہ تو ایك بڑے صاحبِ تمکین(یعنی اپنے شوہر)کی حمایت میں ہے،اور جو کسی ولیِ کبیر کی درگاہ میں ہوتا ہے ہم اس کی نداء پر اجابت نہیں کرتے،یوں کہہ یا سیدی محمد یا حنفی کہ یہ کہے گی تو اﷲ تعالٰی تجھے عافیت بخشے گا۔ان بی بی نے یونہی کہا،صبح کو خاصی تندرست اُٹھیں،گویا کبھی مرض نہ تھا [1]۔اسی میں ہے حضرت ممدوح رضی اﷲ تعالٰی عنہ اپنے مرضِ موت میں فرماتے تھے۔
|
من کانت حاجۃ فلیأت الٰی قبری و یطلب حاجتہ اقضہالہ فانّ مابینی وبینکم غیر ذراعٍ من تراب وکل رجل یحجبہ عن اصحٰبہ ذراع من تراب فلیس برجل[2]۔ |
جسے کوئی حاجت ہو وہ میری قبر پر حاضر ہو کر حاجت مانگے میں رَوا فرمادوں گا کہ مجھ میں تم میں یہی ہاتھ بھر مٹی ہی تو حائل ہے اور جس مرد کو اتنی مٹی اپنے اصحاب سے حجاب میں کردے وہ مرد کا ہے کا۔ |
اسی طرح حضرت سیدی محمد بن احمد فرغل رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے احوال شریفہ میں لکھا:
|
کان رضی اﷲ تعالٰی عنہ یقول انا من المتصرفین فی قبورھم فمن کانت لہ حاجۃ فلیأت الٰی قبالۃ وجھی ویذکرھا لی اقضہالہ [3]۔ |
فرمایا کرتے تھے میں اُن میں ہوں جو اپنی قبور میں تصرف فرماتے ہیں جسے کوئی حاجت ہو میرے پاس میرے چہرہ مبارك کے سامنے حاضر ہو کر مجھ سے اپنی حاجت کہے میں روا فرمادوں گا۔ |
اسی میں ہے:
مروی ہوا ایك بار حضرت سیدی مدین بن احمد اشمونی رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے وضو
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع