30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
فرشتوں کو بھیجنا کیونکر معقول ؟ اور ان ائمہ دین نے یہ روایت کیونکر مقبول اور ان کی شہادت و ولایت کس وجہ سے مسلم رکھی۔اور وہ مردانِ خدا خود بھی سلفِ صالح میں تھے کہ واقعہ شہر طرطوس کی آبادی سے پہلے کا ہے "کما ذکرہ فی الرِّوایۃ نفسہا"(جیسا کہ خود روایت میں ذکر کیا ہے۔ت)اور طرطوس ایك ثغر ہے یعنی دارالاسلام کی سرحد کا شہر جسے خلیفہ ہارون رشید نے آباد کیا "کما ذکرہ الامام السیوطی [1]فی تاریخ الخلفاء"جیسا کہ امام جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے تاریخ الخلفاء میں اس کاذکر کیا ہے۔ت)
ہارون رشید کا زمانہ زمانہ تابعین و تبع تابعین تھا تو یہ تینوں شہدائے کرام اگر تابعی نہ تھے لا اقل تبع تابعین سے تھے واﷲ الہادی (اور اﷲ ہی ہدایت دینے والا ہے۔ت)
حضور پرنور سیدنا غوث اعظم رضی اﷲ تعالٰی عنہ ارشاد فرماتے ہیں:
|
من استغاث بی فی کربۃٍ کشفت عنہ و من نادی باسمی فی شدۃ فرجت عنہ من توسّل بی الی اﷲ عزوجل فی حاجَۃٍ قضیت لہ ومن صلّٰی رکعتین یقرأفی کل رکعۃٍ بعد الفاتحۃ سورۃ اخلاص اِحدٰی عشرۃ مرَّۃً ثم یصلّی علی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بعد السلام ویسلم علیہ ویذکر نی ثم یخطوالٰی جہۃ العراق احدٰی عشرۃ خطوۃ یذکرھا اسمی ویذکر حاجتہ فانہا تقضٰی باذن اﷲ[2]۔ |
یعنی جو کسی تکلیف میں مجھ سے فریاد کرے وہ تکلیف دفع ہواور جو کسی سختی میں میرا نام لے کر ندا کرے وہ سختی دور ہو اور جو کسی حاجت میں اﷲ تعالٰی کی طرف مجھ سے توسل کرے وہ حاجت بر آئے۔اور جو دو رکعت نماز ادا کرے ہر رکعت میں فاتحہ کے بعد سورہ اخلاص گیارہ بار پڑھے پھر سلام بھیجے اور مجھے یاد کرے،پھر عراق شریف کی طرف گیارہ قدم چلے ان میں میرا نام لیتا جائے اور اپنی حاجت یاد کرے اس کی وہ حاجت روا ہو اﷲ کے اذن سے۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع