30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
تو وہ سب وقت سن سکتے ہیں مگر ملاء اعلٰی کی طرف توجہ اور اس میں استغراق اکثر کو ہر وقت سننے سے مانع ہوسکتا ہے مگر اکابر جن کو شاہ عبدالعزیز صاحب نے تفسیر عزیزی میں لکھا۔
|
استغراق آنہا بجہت کمال وسعت مدارك آنہا مانع توجہ بایں سمت نمی گرددوارباب حاجات ومطالب حل مشکلات خود راازانہامی طلبند ومی یابند [1]۔ |
کامل وسعت مدارك کی وجہ سے ان کا استغراق اس طرف متوجہ ہونے سے مانع نہیں ہوتا اور غرض مند محتاج لوگ اپنی مشکلات کا حل ان سے طلب کرتے اور پاتے ہیں۔(ت) |
یہ ہر وقت سنتے اور حاجت روائی فرماتے ہیں کہ باذنہ تعالٰی اسم قاضی الحاجات کے مظہر ہیں۔
(۲)بذاتِ خود کے اگر یہ معنی کہ بے عطائے الہٰی خود اپنی ذاتی قدرت سے سُنتے ہیں تو یہ بے شك باطل بلکہ کفر ہے اور یہ ہر گز کسی مسلمان کا خیال بھی نہیں۔اور اگر بذاتِ خود کے یہ معنی کہ بعطائے الٰہی حضور کی قوتِ سامعہ تمام شرق و غرب کو محیط ہے سب کی عرضیں آوازیں خود سنتے ہیں اگرچہ آداب دربار شاہی ہر ذرہ اُن کے پیشِ نظر ہے اور ارض و سما کی ہر آواز ان کے گوش مبارك میں ہے۔شاہ ولی اﷲ کی فیوض الحرمین میں ہے:
|
لایشغلہ شأن عن شان [2]۔ وھوتعالٰی اعلم |
اس کی ایك حالت اس کو دوسری حالت سے غافل نہیں کرتی۔(ت) |
مسئلہ ۱۶۱: از دہلی بازار چتلی قبر چھتا موم گراں مسئولہ محمد صاحب داد خاں ۶ شوال ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ قادیانی کہتے ہیں حضرت عیسٰی علیہ الصلو ۃ والسلام زندہ آسمان پر نہیں گئے بلکہ اپنی موت مرے،زندہ آسمان پر جانا نہ قرآن سے ثابت ہے نہ حدیث شریف سے،کیونکہ اس میں حضرت رسولِ مقبول محمد مصطفی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی شانِ پاك گھٹتی ہے کہ حضور دونوں عالم سے افضل و اعلٰی ہو کر وفات پائیں اور زمین کے نیچے رہیں اور حضرت عیسٰی
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع