30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
الجواب:
اولیائے کرام بعد وفات زندہ ہیں مگر نہ مثل حضرات انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انبیاء کی حیات روحانی جسمانی دنیاوی ہے بعینہ اُسی طرح جسم کے ساتھ زندہ ہوتے ہیں جس طرح دنیا میں تھے اور اولیاء کی حیات اُن سے کم اور شہداء سے زائد،جن کے لیے قرآن عظیم میں دو جگہ ارشاد ہوا کہ ان کو مردہ نہ کہو وہ زندہ ہیں۔ یہ حیات حیاتِ روحانی و جسمانی برزخ ہے۔حیاتِ روح سب کو حاصل ہے کہ رُوح بعد موت فنا نہیں ہوتی،اس کا مفصل بیان ہماری کتاب حیاۃ الموات میں ہے۔
اولیائے کرام سے توسل اوراُن سے طلبِ دُعا بلاشبہ محمود ہے اور علماء وصلحاء میں معمول و معہود واﷲ تعالٰی اعلم۔
مسئلہ ۱۵۸: از بنگالہ ڈاکخانہ تالشہر موضع ایضًا مسئولہ عبدالصمد ۲۲ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں،علمائے دین کہ حشر کے دن سب مسلمان قبر سے کفن لے کر اٹھیں گے یا برہنہ ؟ بینوا توجروا(بیان فرمایئے اجر دیئے جاؤ گے۔ت)
الجواب:
کفن میں اُٹھیں گے پھر وہ کفن طول مدت کی وجہ سے گل کر گر جائیں گے۔واﷲ تعالٰی اعلم
مسئلہ ۱۶۹ و۱۶۰: از ناگل لکڑی ضلع گوڑگانوہ پوسٹ ڈھینا ریاست مسئولہ حافظ غلام کبریا ۳ رمضان ۱۳۳۹ھ
کیا فرماتے ہیں علمائے دین کہ:
(۱)اولیاء اﷲ کو دُور سے مشکل کے واسطے پکارنا کیسا ہے؟ اولیاء اﷲ دور سے بعض وقت سُنتی ہیں یا سب وقت سُنتے ہیں؟
(۲)اگر کوئی یارسول اﷲ پکارے اور یہ اعتقاد رکھے کہ آپ بذاتِ خود سنتے ہیں،بعض کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد کہتے ہیں کہ یہ اعتقاد ٹھیك نہیں۔بینواتوجروا۔
الجواب:
شاہ عبدالعزیز صاحب فرماتے ہیں:
|
روح را قرب و بُعد مکانی یکسانی ست [1]۔ |
روح کے مکانی قُرب و بُعد برابر ہیں(ت) |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع