30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اور اپنے علومِ غیب دونوں پر عمل و حکم کا رب عزوجل نے اختیار دیا ہے۔اور امام قرطبی نے اجماعِ علماء نقل فرمایا کہ نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو اختیار ہے کہ محض اپنے علم کی بناء پر قتل کا حکم فرمادیں اگرچہ گواہ شاید کچھ نہ ہو،اور حضور کے سوا دوسرے کو یہ اختیار نہیں،تو اگر اس نماز والے یا اس چور یا اس شخص کو جس پر عورت نے دھوکے سے تہمت رکھی تھی قتل کا حکم فرمائیں تو یقینًا وہ حضور کے علومِ غیب ہی پر مبنی ہے نہ کہ ان کا نافی۔کیوں وہابیو! اب تو اپنی اوندھی مَت پر مطلع ہوئے۔ فانی تؤفکون(تو کہا اوندھے جاتے ہو۔ت)
مسلمانو! وہابیہ کے مطلب پر بھی غور کیا،حکم کے دو ہی منبے ہوئے،یا ظاہر شرع یا باطنی علومِ غیب،ظاہر ہے کہ یہاں ظاہر کی رُو سے تو اصلًا حکم رجم کی گنجائش نہ تھی،نہ ملزم کا اقرار نہ اصلًا کوئی گناہ،صرف مدعی کا غلط دعوٰی سن کر قتل کا حکم فرمادیں۔نبی کی شان تو ارفع و اعلٰی ہے۔آج کل کا کوئی عالم نہ عالم کوئی جاہل حاکم ہی ایسا کر بیٹھے تو ہر عاقل اسے یا سخت جاہل یا پکا ظالم کہے تو حدیث صحیح مان کر راہ نہ تھی مگر اسی طرف کہ حضور نے بربنائے تہمت ہر گز یہ حکم نہ دیا بلکہ بزعمِ خود اسی کے ابطال کو یہ حدیث لائے ہیں،تو اب سمجھ لیجئے کہ ان کا مطلب کیا ہوا اور انہوں نے تمہارے پیارے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم پر کیسا بھاری الزام قائم کیا۔کیوں نہ ہو عداوت کایہی مقتضیٰ ہے۔
|
" قَدْ بَدَتِ الْبَغْضَآءُ مِنْ اَفْوٰہِہِمْۚۖ وَمَا تُخْفِیۡ صُدُوۡرُہُمْ اَکْبَرُؕ قَدْ بَیَّنَّا لَکُمُ الۡاٰیٰتِ اِنۡ کُنۡتُمْ تَعْقِلُوۡنَ﴿۱۱۸﴾"[1] " وَالَّذِیۡنَ یُؤْذُوۡنَ رَسُوۡلَ اللہِ لَہُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۶۱﴾"[2] " رَّبِّ اَعُوۡذُ بِکَ مِنْ ہَمَزٰتِ الشَّیٰطِیۡنِ ﴿ۙ۹۷﴾ وَ اَعُوۡذُ بِکَ رَبِّ اَنۡ یَّحْضُرُوۡنِ ﴿۹۸﴾ "[3] وصلی اﷲ تعالٰی علیہ سیدنا و مولانا |
بیرَان کی باتوں سے جھلك اُٹھا اور وہ جو سینے میں چھپائے ہیں بڑا ہے ہم نے نشانیاں تمہیں کھول کر سُنا دیں اگر تمہیں عقل ہو۔اور جو رسول اﷲ کو ایذا دیتے ہیں ان کے لیے دردناك عذاب ہے۔اے میرے رب تیری پناہ شیطانوں کے وسوسوں سے اور اے میرے رب تیری پناہ کہ وہ میرے پا س آئیں۔اور اﷲ درود نازل فرمائے ہمارے آقا و مولٰی |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع