30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
علیہ من حقائق الامور فجمع لہ بین ماکان للانبیاء و ماکان للخضر خصوصیۃ خصہ اﷲ بہا ولم یجمع الامر ان لغیرہ،وقد قال القرطبی فی تفسیرہ اجمع العلماء عن بکرۃ ابیھم ان لِیس لاحد ان یقتل بعلمہ الا النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم وشاھد ذٰلك حدیث المصلیّ والسارق الذین امربقتلھما فانہ اطلع علی باطن امرھما وعلم منھما مایوجب القتل۔
ولوتفطن الذین لم یفھموا الی استشہادی بھذین الحدیثین فی اخر الباب |
اور اس کے حقائق آپ پر واضح فرمائے۔اس کے بعد اﷲ عزوجل نے آپ کے شرف کو اور زیادہ فرمایا اور آپ کو اجازت فرمائی کہ آپ باطن پر حکم لگائیں اور جن امور کی حقیقتوں کی آپ کو اطلاع دی گئی ہے اس پر فیصلہ فرمائیں تو اس طرح آپ ان تمام معمولات کے جوا نبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کے لیے تھے ا ور اس خصوصیت کے ساتھ جو حضرت خضر علیہ السلام کے لیے اﷲ عزوجل نے خاص فرمائے جامع تھے اور یہ امر آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے علاوہ کسی اور نبی میں جمع نہیں کیا گیا۔اور امام قرطبی علیہ الرحمۃ نے اپنی تفسیر میں فرمایا علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ کسی کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اپنے علم کے ساتھ کسی کے قتل کا حکم دے سوائے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے۔اس کی شاہد اس نمازی اور چور والی حدیث ہے جن کے قتل کرنے کا حکم حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے دیا تھا کیونکہ اﷲ تعالٰی نے ان دونوں کے باطنی حالات پر آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو مطلع فرمادیا تھا اور ان دونوں کے بارے میں آپ کو علم ہوگیا تھا کہ واجب القتل ہیں۔ا گرچہ ان کا قتل کچھ عرصہ بعد واقع ہوا۔) (امام سیوطی رحمۃ اﷲ علیہ فرماتے ہیں)کاش کہ یہ علماء اعلام اس بات کو سمجھ سکتے جس کو انہوں نے نہیں سمجھا جس کی طرف میں نے آخر باب میں ان |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع