30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
واﷲ یتولی السرائر وقال انما اقضی بنحو ما اسمع فمن قضیت لہ بحق اخرفا نما ھی قطعۃ من النار وقال للعباس اما ظا ھرك فکان علینا واما سریرتك فالی اﷲ وکان یقبل عذر المتخلفین عن غزوۃ تبوك ویکل سرائرھم الی اﷲ وقال فی تلك المرأۃ لو کنت راجما احدا من غیر بینۃ لرجمتھا وقال ایضا لولا القرآن لکان لی ولہا شان فہذا کلہ صریح فی انہ انما یحکم بظاہر الشمرع بالبینۃ اوالاعتراف دون ما اطلعہ اﷲ علیہ من بواطن الامور وحقائقہا ثم ان اﷲ زادہ شرفا واذن لہ ان یحکم بالباطن وما اطلع |
ایك روایت میں اس طرح ہے میں تو ظاہر پر فیصلہ د یتا ہوں باطن حالات کا خدا عزوجل مالك ہے۔ اور یہ کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا۔ میں تو اسی پر فیصلہ دیتا ہوں جیسا کہ میں سنتا ہوں،لہذا میں نے جس کے لیے د وسرے کے حق کا فیصلہ کردیا ہے تو وہ یہ جان لے کہ وہ آگ کا ٹکڑا ہے۔ اور یہ کہ حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے حضرت عباس رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے فرمایا جہاں تك تمہارے ظاہر کا تعلق ہے تو وہ ہمارے ذمہ ہے لیکن جو تمہاری باطنی حالت ہے وہ اﷲ عزوجل کے ذمہ ہے اور یہ کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم غزوہ تبوك سے رہ جانے والوں کی معذرت قبول فرماتے تھے اور ان کے باطنی حالات کو اﷲ تعالٰی کے سپرد فرماتے تھے۔اور یہ کہ حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ایك عورت کے بارے میں فرمایا۔اگر میں بغیر دلیل و شہادت کے کسی کو سنگسار کرتا تو ضرور اس عورت کو سنگسار کرتا اور یہ بھی فرمایا کہ اگر قرآن نہ ہوتا تو یقینا میرے لیے اور اس عورت کے لیے کچھ اور ہی معاملہ ہوتا۔ یہ تمام نظائر اور شواہد اس بات کے مظہر ہیں کہ آپ کو دلیل و شہادت یا اعتراف و اقرار کے ساتھ ظاہر شریعت پر فیصلہ دینے کا حکم ہوا نہ کہ اس پر جو باطنی امور پر اﷲ عزوجل نے آپ کو مطلع فرمایا |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع