30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
اذااطلع حقیقۃ ان ینفذ ذلك بمقتضی الحقیقۃ وانما علیہ ان ینفذ الحکم الظاھر انتہی۔
وقال الحافظ ابن حجر فی الاصابۃ قال ابوحبان فی تفسیرہ الجمہور علی ان الخضر نبی وکان علمہ معرفۃ بواطن اوحیت الیہ وعلم موسٰی الحکم بالظاھر فاشار الٰی ان المراد فی الحدیث بالعلمین الحکم بالباطن والحکم بالظاھر لاامر اٰخر۔
وقد قال الشیخ تقی الدین السبکی ان الذی بعث بہ الخضر شریعۃ لہ فالکل شریعۃ واما نبینا صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فانہ امر اولًا ان یحکم بالظاھردون ما اطلع علیہ من الباطن والحقیقۃ کغالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام،ولہذا قال نحن نحکم بالظاھر،وفی لفظ انما اقضی بالظاھر |
تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا تابع ہے کہ جب وہ حقیقت پر مطلع ہو تو وہ بہ مقتضائے حقیقت اس کا نفاذ کرے بے شك اس پر یہی لازم ہے کہ حکمِ ظاہر کو نافذ کرے۔انتہی۔ حافظ ابن حجر رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے الاصابہ میں فرمایا کہ ابوحبان رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ نے اپنی تفسیر میں بیان کیا کہ جمہور اس بات پر متفق ہیں کہ حضرت خضر علیہ السلام نبی ہیں اور انکا علم ان امورِ باطنیہ کی معرفت تھی جس کی انہیں وحی کی گئی جب کہ حضرت موسٰی علیہ الصلوۃ والسلام کا علم ظاہر پر حکم لگاناتھا حدیث میں دو علوم جن کی طرف اشارہ فرمایا ہے اس سے مراد ظاہر وباطن پر حکم لگانا ہے،اس کے علاوہ کوئی دوسرا مطلب مراد نہیں ہے۔ شیخ تقی الدین سبکی رحمۃ اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے فرمایا وہ حکم جس کے ساتھ حضرت خضر علیہ الصلوۃ والسلام مبعوث ہوئے وہ ان کی شریعت تھی لہذا یہ سب شریعت ہے،اور ہمارے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو ابتداء میں یہ حکم فرمایا گیا کہ ظاہر پر حکم فرمائیں اور اس باطن و حقیقت پر حکم نہ دیں جس کی آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کو خبر ہے جس طرح کہ اکثر انبیاء علیہم السلام کا معمول تھا۔اسی بناء پر حضور نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ارشا دفرمایا ہم تو ظاہر پر حکم دیتے ہیں"۔ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع