30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
وقد کنت قلت ھذا الکلام اولا استنباطامن ھذا الحدیث من غیر ان اقف علیہ فی کلام احد من العلماء ثم رأیت البدربن المصاحب اشارالیہ فی تذکرتہ ووجدت من شواھدہ حدیث السارق الذی امربقتلہ والمصلی الذی امر بقتلہ و قد تقدم فی باب الاخبار بالمغیبات۔
زیادۃ ایضاح لہذاالباب:فقد اشکل فھمہ علی قوم ولو تأملوا لاتضع لھم المراد بالشریعۃ الحکم بالظاھر وبالحقیقۃالحکم بالباطن وقدنص العلماء علی ان غالب الانبیاء علیہم الصلوۃ والسلام انما بعثوا لیحکموا بالظاھر دون ما اطلعوا علیہ من بواطن الامورو حقائقہا وبعث الخضر علیہ السلام لیحکم بما اطلع علیہ من بواطن الامور وحقائقہاولکون الانبیاء لم یبعثوابذلك |
ہوں جسے جاننا آپ کو مناسب نہیں اور آپ کو منجانب اﷲ ایسا علم عطا ہوا جس کو جاننا مجھے مناسب نہیں۔(امام سیوطی فرماتے ہیں)میں پہلے یہ بات حدیث سے استنباط کرکے کہا کرتا تھا بغیر اس کے کہ میں اس بارے میں کسی عالم کے کلام پر مطلع ہوتا۔اس کے بعد میں نے دیکھا کہ بدربن المصاحب نے اپنے تذکرہ میں اس کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔اور میں نے اس کے شؤاہد میں وہ حدیث پائی جس میں رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے ایك چور کو قتل کرنے کا حکم دیا اور وہ حدیث کہ جس میں آپ نے ایك نمازی کو قتل کرنے کا حکم صادر فرمایا،دونوں مذکورہ حدیثیں اس سے قبل الاخبار بالمغیبات کے باب میں گزرچکی ہیں۔ اس باب کی مزید وضاحت:تحقیق لوگوں کو اس کے سمجھنے میں مشکل پیش آئی اور اگر وہ غور و فکر کرتے تو مطلب واضح ہوجاتا کہ شریعت سے مراد ظاہری حکم اور حقیقت سے مراد باطنی حکم ہے،بے شك علمائے کرام نے اس بات کی تصریح فرمائی کہ اکثر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام اس لیے مبعوث ہوئے کہ وہ ظاہر پر حکم کریں نہ کہ امور باطنیہ اور ان کے حقائق پر جن سے وہ مطلع ہوئے۔اور حضرت خضر علیہ السلام کی بعثت اس پر ہے کہ وہ اس پر حکم دیں اور جوامور باطنیہ اور اس کے حقائق سے متعلق ہیں اور جس پر ان کو اطلاع و |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع