30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
ثم سرق علی عہدابی بکر فقطع،ثم سرق فقطع،حتّی قطعت قوائمہ،ثم سرق الخامسۃ فقال ابوبکر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کان رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم اعلم بھٰذا حیث امر بقتلہ اذھبوا بہ فاقتلواہ [1]۔ |
نے پھر چوری کی پھر قطع کیا گیا۔زمانہ صدیقی میں پھر چوری کی پھر قطع کیا گیا،پھر چوری کی پھر قطع کیا گیا۔یہاں تك کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کاٹ دیئے گئے پانچویں مرتبہ اس نے پھر چوری کرلی۔ابوبکر صدیق رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا: رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم اس کا حال خوب جانتے تھے جب کہ آپ نے پہلی مرتبہ ہی اس کے قتل کا حکم صادر فرمایا تھا۔اس کو لے جاؤ اور قتل کردو۔(ت) |
ظاہر ہے کہ ان دونوں کے قتل کا حکم حضور اقدس صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے علومِ غیب ہی کی بنا پر فرمایا تھا ورنہ ظاہر شریعت میں وہ مستحقِ قتل نہ تھے۔امام جلیل جلال الملۃ والدین سیوطی سلمہ اﷲ تعالٰی خصائص کبرٰی شریف میں فرماتے ہیں:
|
باب ومن خصائصہ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم انہ جمع بین القبلتین والھجرتین وانہ جمعت لہ الشریعۃ والحقیقۃ ولم یکن للانبیاء الا احدھما بدلیل قصۃ موسٰی مع الخضر علیھما الصلوۃ و السلام وقولہ انی علی علم من علم اﷲ لاینبغی لك ان تعلمہ وانت علی علم من علم اﷲ تعالٰی لاینبغی لی ان اعلمہ |
باب اور حضور پر نور صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے خصائص میں سے یہ ہے کہ آپ دو قبلوں اور دو ہجرتوں کے جامع ہیں۔اور یہ کہ آپ کے لیے شریعت وحقیقت کو جمع کر دیا گیا۔دیگر انبیاء علیہم الصلوۃ والسلام میں سے کسی میں یہ دونوں وصف جمع نہ ہوئے بلکہ وہ صرف ایك وصف کے ساتھ متصف ہوئے۔اس کی دلیل سیّدنا موسٰی علیہ السلام اور حضرت خضر علیہ السلام کا قصہ ہے۔اور حضرت خضر علیہ السلام کا وہ قول کہ آپ نے حضرت موسٰی علیہ السلام سے کہا:میں اﷲ تعالٰی کی طرف سے ایسے علم کا حامل |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع