30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے فرمایا:رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم تیری حقیقت خوب جانتے تھے جب کہ اول ہی بار تیرے قتل کا حکم فرمایا تھا تیرا وہی علاج ہے جو حضور کاارشاد تھا۔لے جاؤ اسے قتل کردو۔ا ب قتل کیا گیا۔
ابویعلٰی اور شاشی اور طبرانی معجم کبیر اور حاکم صحیح مستدرك میں،ضیائے مقدسی صحیح مختارہ میں محمد بن حاطب اور حاکم مستدرك میں بافادہ تصحیح ان کے بھائی حارث بن حاطب رضی اﷲ تعالٰی عنہما سے راوی:
|
قال اتی رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم بلص فامر بقتلہ فقیل انہ سرق فقال اقطعوہ ثم جیئ بہ بعد ذٰلك الی ابی بکر وقد قطعت قوائمہ فقال ابوبکر مااجدلك شیئا الاماقضی فیك رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم یوم امر بقتلك فانہ کان اعلم بك فامر بقتلہ [1]۔ |
کہا کہ رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کے پاس ایك چور لایا گیا آپ نے فرمایا اس کو قتل کردو،عرض کی گئی کہ اس نے چوری ہی تو کی ہے،فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو پھر اسے صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ کے پاس اس حال میں لایا گیا کہ اس کے تمام ہاتھ پاؤں کاٹے جاچکے تھے۔تو آپ نے فرمایا میں اس کے بغیر تیرا علاج نہیں جانتا جو رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم نے تیرے بارے میں فیصلہ فرمایا تھا کہ اس کو قتل کردو وہ تیرا حال خوب جانتے تھے۔چنانچہ صدیق اکبر رضی اﷲ تعالٰی عنہ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔(ت) |
صحیح مستدرك کے لفظ حارث بن حاطب سے یہ ہیں:
|
ان رجلا سرق علی عہد رسول ا ﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فاتی بہ فقال اقتلوہ فقالوا انما سرق،قال فاقطعوہ ثم سرق ایضا فقطع |
ایك شخص نے رسول اﷲ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں چوری کی اُسے آپ کی بارگاہ میں لایا گیا آپ نے فرمایا۔اس کو قتل کردو،عرض کی گئی اس نے چوری ہی تو کی ہے،فرمایا اس کا ہاتھ کاٹ دو۔اس |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع