30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نہیں کرسکتا،اور یہاں اسی قدر واقعہ تھا ہمارےائمہ کے یہاں مقبول ہے مگر انقطاع باطن باجماعِ علماء مردود و باطل و مخذول ہے اگرچہ کیسی ہے سند لطیف و صحیح سے آئے نہ کہ یہ سند کہ بوجوہ محل ِ نظر ہے،سماك کے سوا اسرائیل میں بھی اختلاف ہے اگرچہ راجح توثیق ہے۔امام علی مدینی نے فرمایا:اسرائیل ضعیف [1]۔(اسرائیل ضعیف ہے۔ت) ابن سعد نے کہا:منھم من یستضعفہ [2]۔(اُن میں سے بعض اُسی ضعیف قرار دیتے ہیں۔ت)یعقوب بن شیبہ نے کہا:صالح الحدیث وفی حدیثہ لین [3](صالح الحدیث ہے اس کی حدیث میں کمزوری ہے۔ت)میزان میں ہے:کان یحیی القطان لایرضاہ [4]۔(یحیی قطان اُسے پسند نہ کرتے تھے۔ت)
ابن حزم نے کہا:ضعیف،اور ان کی متابعت کہ اسباط بن نصر نے کی،ان کا حال تو بہت گرا ہوا ہے۔تقریب میں کہا:
|
صدوق کثیر ا الخطا یغرب اھ[5]۔ اما ماحاول بہ التفصی عنہ فی حامش نسخۃ الطبع اذ قال لعل المراد فلما قارب ان یامربہ وذلك قالہ الراوی نظر الٰی ظاھرا لا مرحیث انھم احضروہ فی المحکم عند الامام والامام اشتغل بالتفتیش عن حالہ اھ [6]۔ فاقول:لایجدی نفعا |
صدوق ہے بہت خطا کرتا ہے نوادرات بیان کرتا ہے۔اھ(ت) مطبوعہ نسخے کے حاشیے میں مُحشی نے یوں کہہ کر اشکال سے بچنے کا ارادہ کیا ہے کہ شاید مراد اس سے یہ ہو کہ جب اپ رجم کا حکم دینے کے قریب ہوئے اور راوی نے ظاہر امر کو دیکھتی ہوئے یہ کہہ دیا کہ آپ نے رجم کا حکم دیا۔اس لیے کہ لوگوں نے اُس شخص کو امام کے پاس کچہری میں پیش کیا اور امام اس کے حال کی تفتیش میں مشغول ہوئے۔اھ(ت) فاقول:(تو میں کہتا ہوں)یہ کچھ نفع نہیں |
[1] میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
[2] میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
[3] میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
[4] میزان الاعتدال ترجمہ ۸۲۰ اسرائیل بن یونس دارالمعرفۃ بیروت ۱ /۲۰۹
[5] تقریب التہذیب ترجمہ ۳۲۱ اسباط بن نصر دارالکتب العلمیہ بیروت ۱ /۷۶
[6] جامع الترمذی باب الحدود باب ماجاء فی المراۃ اذا استکرھت علی الزناء(حاشیہ)امین کمپنی دہلی ۱ /۱۷۵
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع