30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
رجلافی تھمۃ ثم خلی عند"قال الترمذی وفی الباب عن ابی ھریرۃ حدیث بھز عن ابیہ عن جدہ حدیث حسن،وقدروی اسمعیل بن ابراہیم عن بھزبن حکیم ھذا الحدیث اتم من ھذا واطول اھ [1]قلت سندالترمذی حسن،علی وبہزوحکیم کلھم صدوق ما اشارالیہ من روایۃ اسمعیل بن ابراھیم فقد رواھا ابن ابی عاصم فی کتاب العفو،قال حدثنا ابوبکر بن ابی شیبۃ ثناء ابن عُلیۃ عن بھزعن ابیہ عن جدہ ان اخاہ اتی النبی صلی اﷲ تعالٰی علیہ وسلم فقال جیرانی علی ما اخذوا فاعرض عنہ فاعاد قولہ فاعرض عنہ وساق القصۃ قال فی اخرھا خلوالہ عن جیرانہ [2]۔ |
کسی تہمت میں محبوس فرمایا پھر چھوڑ دیا۔اس باب میں حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ تعالٰی عنہ سے بھی روایت ہے۔بہز کی حدیث بواسطہ اپنے باپ اپنے دادا سے حسن ہے۔تحقیق اسمعیل بن ابراہیم نے بہز بن حکیم سے اس حدیث کو اتم واطول روایت کیا ہے۔اھ میں کہتا ہوں ترمذی کی سند حسن ہے،علی،بہز اور حکیم تمام صدوق ہیں۔اسمعیل بن ابراہیم کی روایت سے جس حدیث کی طرف ترمذی نے اشارہ کیا ہے۔ اس کو ابن ابی عاصم نے کتاب العفو میں روایت کیا،کہا کہ ہمیں حدیث بیان کی ابوبکر بن ابی شیبہ نے انہوں نے کہا ہمیں حدیث بیان کی ابن علیہ نے انہوں نے بہز سے انہوں نے بہز سے انہوں نے بواسطہ اپنے آپ کے اپنے دادا سے روایت کی کہ اُن کے بھائی نے نبی کریم صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی کہ میری پڑوسی کس بنیاد پر پکڑے گئے،آپ صلی اﷲ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم نے ان سے اعراض فرمایا۔انہوں نے بات دہرائی،آپ نے پھر اعراض فرمایا،ا ور پورا قصہ بیان کیا،اس کے آخر میں ہے کہ آپ نے فرمایا اس کی خاطر اس کے پڑوسیوں کو چھوڑ دو۔(ت) |
(۴)امام بغوی نے مصابیح میں یہ حدیث ذکر کی اور اس میں سرے سے دوسرے شخص کا جس پر غلطی سے تہمت ہوئی تھی قصہ ہی نہ رکھا،مصابیح کے لفظ یہ ہیں:
|
عن علقمۃ بن وائل عن ابیہ |
علقمہ بن وائل اپنے باپ وائل سے راوی ہیں کہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع