30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
|
یحیی بن معین یقول فیہ روایۃ عن ابیہ مرسلۃ [1]۔ |
کہتے ہیں کہ اس کی روایت اپنے باپ سے مرسل ہے۔(ت) |
تقریب میں ہے:
|
علقمۃ بن وائل صدوق الاانہ لم یسمع من ابیہ [2]۔ |
علقمہ بن وائل صدوق ہے مگر اپنے باپ سے اس نے کچھ نہ سنا۔(ت) |
(۲)پھر سماك بن حرب میں کلام ہے، تقریب میں ہے:
|
قدتغیرباخبرہ فکان ربما یلقن [3]۔ |
آخر عمر میں وہ متغیر ہوگئے تھے چنانچہ بسا اوقات انہیں تلقین کی جاتی تھی۔(ت) |
امام نسائی نے اس کے باب میں یہ فیصلہ کیا کہ جس حدیث کے تنہا وہی راوی ہوں حجت نہیں۔میزان میں ہے:
|
قال النسائی اذا انفرد باصل لم یکن بحجۃ لانہ کان یلقن فیتلقن[4] اھ وقد انقدالحافظ علی الترمذی تصحیحاتہ بل وتحسیناتہ کما بیناہ فی مدارج طبقات الحدیث وغیرھا من تصانیفنا۔ |
نسائی نے کہا جس حدیث میں علقمہ منفرد ہو وہ حجت نہیں کیونکہ انہیں بات سمجھائی جاتی تب وہ سمجھتے اور حافظ نے ترمذی پر اس کی تصیححات بلکہ اس کی تحسینات پر تنقید کی، جیسا کہ ہم نے اپنی تصانیف مدارج طبقات الحدیث وغیرہ میں اس کو بیان کیا ہے۔(ت) |
اور اس پر ظاہر کہ اس حدیث کا مدار سماك پر ہے۔
(۳)ابوداؤد نے یہ حدیث بعینہ اسی سند سے روایت کی اور اسی میں یہ لفظ لیرجم(کہ اسے رجم کیا جائے۔(ت)جو منشاء اعتراض وہابی ہے،اصلًا نہیں،اس کی سند یہ ہے:
|
حدثنا محمد بن یحیی بن فارس |
ہمیں حدیث بیان کی محمد بن یحیی بن فارس نے وہ |
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع